نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں کثیرالجہتی نظام دباؤ میں ہے اور جنوبی ایشیا کا استحکام متعدد خطرات کی زد میں آچکا ہے، ایسے میں علاقائی تعاون کے بغیر دیرپا امن ممکن نہیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی اداروں پر یکطرفہ اقدامات کرنے والی چند ریاستوں کے طرزِ عمل کے باعث تنقید بڑھ رہی ہے اور ملٹی لیٹرل ازم کو براہِ راست چیلنج درپیش ہے۔
اسحاق ڈار نے رواں برس مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 92 گھنٹے جاری رہنے والی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنازع چند گھنٹوں میں بڑے اور خطرناک تصادم میں تبدیل ہوسکتا تھا۔
جنوبی ایشیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 78 برس سے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکا۔ بھارت کی جانب سے اپریل میں سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی جیسے اقدامات خطے میں وسائل کی تقسیم پر تنازعات کو مزید بھڑکا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر سمیت دیرینہ تنازعات آج بھی امن کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
ڈار نے کہا کہ یہ خطہ 3 ایٹمی طاقتوں، پاکستان، بھارت اور چین، پر مشتمل ہے، جہاں سیکیورٹی کا ماحول نہایت پیچیدہ اور حساس ہے۔
ان کے مطابق اسلحے کا تیز رفتار پھیلاؤ، جدید جنگی نظاموں کی شمولیت اور بعض خطرناک جنگی نظریات اسٹریٹجک توازن کے لیے شدید خطرہ بن رہے ہیں۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ریاستیں بین الاقوامی قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے طاقت کے استعمال سے تنازعات حل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہیں، جو اقوام متحدہ کے منشور کی بنیادی روح کے منافی ہے۔
اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے انتہا پسند نظریات، سیاسی پوپلزم، جمہوری زوال اور اسلاموفوبیا کے عالمی پھیلاؤ پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ یہ عوامل دنیا کو غیرمعمولی عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، سرحد پار دہشت گردی، اور ہائبرڈ وارفیئر، خصوصاً جھوٹے بیانیوں اور گمراہ کن معلومات کی مہمات، خطے کے استحکام کیلئے بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔
ڈار کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں میں مسابقت فوجی، تجارتی، تکنیکی اور وسائل کی دوڑ کی شکل اختیار کرچکی ہے، جو بین الاقوامی ماحول کو مزید غیر مستحکم کررہی ہے۔
نائب وزیر اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان نے ہمیشہ ‘بلاک پالیٹکس’ اور ‘زیرو سم اپروچ’ کی مخالفت کی ہے اور تعاون، مکالمے اور سفارت کاری کو ہی دیرپا امن کا واحد راستہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان بطور منتخب رکن اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (مدت 2025-26) عالمی امن و سلامتی کے فروغ کیلئے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔
