ڈی آئی جی ٹریفک پنجاب کا کہنا ہے کہ ہم نے رواں سال 5 ارب سے زائد کے چالان کیے،کم قیمت کے جرمانے زیادہ موثر ثابت نہیں ہوئے،جرمانے کا مقصد خزانہ بڑھانا نہیں بلکہ قانون پر عملدرآمد ہے۔
لاہورمیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں رجسٹر گاڑیاں 2 کروڑ 55 لاکھ سے زائد ہیں،50 لاکھ کے قریب پنجاب کی سڑکوں سے گاڑیاں روزانہ گزرتی ہیں۔
پنجاب میں 120 گھنٹوں میں 3 لاکھ سے زائد ای چالان، 35 کروڑ روپے کے جرمانے
پنجاب حکومت نے قانون میں ترمیم کی ہے ،گزشتہ 120 گھنٹوں سے نئے قوانین پر عملدرآمد شروع ہوا،سوشل میڈیا پر مذاق بنایا جا رہا ہے،نوجوانوں کے مستقبل خراب کرنے کے حوالے سے چیزیں چل رہی ہیں۔
پنجاب کے رہائشی اگر قانون پر عملدرآمد کریں تو نہ ہی ایف آئی آر ہو گی نہ ہی جرمانے،یہ تمام چیزیں ان لوگوں کے لیے ہیں جو قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
ای چالان کا دائرہ سکھر اور حیدرآباد تک بڑھا دیا،وزیر داخلہ سندھ
وزیراعلی کی ہدایات ہیں کہ چھوٹے بچوں کے خلاف مقدمہ درج نہ کیا جائے،کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ کے باعث حادثات میں اموات ہوئی۔پہلے بھی اور اب بھی کم عمر بچوں کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں ہوں گی،کمرشل وہیکلز کے خلاف کارروائی مزید سخت کی ہے۔
