پاکستانی معروف اداکارہ سجل علی نے کراچی نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے سے تین سالہ بچے ابراہیم کی ہلاکت پر گہرے صدمے اور دکھ کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر جاری اپنے بیان میں سجل علی نے شہر کے خستہ حال شہری ڈھانچے اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ میں شدید افسوس اور دل شکستگی میں مبتلا ہوں، جو لوگ اس ناقص نظام کے ذمہ دار ہیں، انہیں شرم آنی چاہیے۔ کراچی کی دیکھ بھال آخر کس کی ذمہ داری ہے؟ یہ ناکام اور بوسیدہ نظام آخر کس کے لیے قائم ہے؟
کھلے مین ہول میں گر کر بچے کی موت،مشی خان سندھ حکومت پر برس پڑیں

اداکارہ نے مزید کہا کہ آج ایک معصوم بچے کی جان چلی گئی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی کہ اس کے والدین کس اذیت سے گزر رہے ہوں گے۔ وہ یقیناً کسی معجزے کے منتظر رہے ہوں گے، مگر ہمارے پاس نہ کوئی فعال نظام ہے اور نہ ہی بروقت مدد فراہم کرنے والا کوئی ادارہ۔
سجل علی نے شہر کے خراب انفراسٹرکچر پر افسوس کرتے ہوئے کہا کہ نہ ٹھیک سڑکیں، نہ فعال نظام , یہ شہر لاکھوں افراد کا بوجھ اٹھاتا ہے، مگر بدلے میں اسے بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔
مین ہول میں بچے کے گرنے کا واقعہ ، چندہ جمع کرکے مشینری منگوائی گئی ، انتظامیہ غائب
اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کو ایک صحافی کی جانب سے واقعے میں مبینہ غفلت سے متعلق براہِ راست سوالات کا سامنا کرتے دکھایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ اتوار کی رات تقریباً 11 بجے پیش آیا تھا، جبکہ مسلسل چودہ گھنٹے کی تلاش کے بعد تین سالہ ابراہیم کی لاش وفاقی اردو یونیورسٹی گلشن کیمپس کے قریب نالے سے برآمد ہوئی۔
