سوشل میڈیا پر اس بات پر بحث جاری ہے کہ کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی لاش سرکاری اداروں نے نہیں، بلکہ ایک کچرا چننے والے لڑکے نے نکالی ہے۔
وائرل ویڈیو میں ایک کچرا چننے والے لڑکے نے دعویٰ کیا کہ بچے کی لاش متعلقہ سرکاری اداروں نے نہیں بلکہ اس نے نکالی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں نے بچے کی لاش نکالی اور انکل کو دی، لیکن پولیس نے الٹا مجھے گاڑی سے اتار کر تھپڑ مار دیا۔
بچے کی لاش ڈھونڈنے کا کریڈٹ ریسکیو والوں نے کیسے لیا؟
کچرا چُننے والے بچے نے لاش نکالی اور ریسکیو والوں نے اُس کو تھپڑ مارے۔ pic.twitter.com/kxKUXylXFs— A.Waheed Murad (@awaheedmurad) December 1, 2025
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور شہریوں نے حکومتی اداروں کی ناکامی پر سخت تنقید کی۔ صارفین نے اس کچرا چننے والے لڑکے کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
کراچی نالے میں گر کر وفات پانے والے ۳ سالہ ابراہیم کی لاش کو اس کچرہ اٹھانے والے جوان نے نکالا۔۔۔۔#karachi #Traffic #hero pic.twitter.com/By2Ef75mTG
— Mujtaba Hadi 🇵🇰🇵🇸 (@Hadi14MH) December 1, 2025
ایک صارف نے لکھا کہ ننھے ابراہیم کی لاش اربوں کے بجٹ والی انتظامیہ نے نہیں، بلکہ کچرا چننے والے لڑکے نے نکالی۔ اسے ہیرو قرار دے کر انعام دیا جائے۔
دوسری جانب بچے کی والدہ نے الزام لگایا کہ تلاش کا سارا عمل انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کیا۔ اس افسوسناک واقعے نے شہر میں کھلے مین ہولز اور انتظامی غفلت پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
