کراچی میں کھلے مین ہولز میں گر کر بچوں کی اموات کے بڑھتے واقعات پر سندھ حکومت کو شدید ردعمل کا سامنا ہے ۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب(Murtaza Wahab) سے سخت سوالات پوچھ لئے ،صحافی نے کہا کہ آپ کو یہاں ہونے کی بجائے نپیا چورنگی ہونا چاہئے تھا جہاں کھلے مین ہول میں گر کر بچے کی موت ہوگئی ،وہاں لوگوں نے روڈ بھی جام کر رکھا ہے۔
اس ماں کی چیخیں آسمان پر تو جا رہی ہیں لیکن حکمرانوں تک پہنچ رہی ہیں یا نہیں ؟اگر یہی بچہ کسی حکمراں کا ہوتا تو آپ کا یہی رویہ ہوتا؟آپ لوگوں کو نیند کیسے آتی ہے ؟ایک عدالت اللہ کی بھی ہے ، آپ کو پتہ ہے وہاں جہاں کر بھی جواب دینا ہے؟
17 سال سے پیپلز پارٹی شہر پر حکومت کر رہی ہے ، کراچی کی سڑکوں کو کھنڈر بنا کررکھ دیا ہے ، اس شہر کے بچوں کا یہی نصیب رہ گیا ہے کہ وہ نالوں میں گر کر مرتے رہیں۔
کیا مین ہول میں گرنے والے بچے کی لاش کچرا چننے والے نے نکالی ؟ سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی
مرتضیٰ وہاب نے جواب میں کہا کہ اگر آپ تقریر کرنے کے بجائے سوال پر فوکس کرتے تو بہتر ہوتا۔اسی اشتعال انگیز گفتگو کی وجہ سے ہم معاملات حل نہیں کر پاتے ، اگر سڑک بلاک کرنے سے متاثرہ والدین کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے تو سو بسم اللہ ۔
میں چاہتا تو پریس کانفرنس کینسل کرسکتا تھا لیکن یہ میری ذمہ داری ہے ، اس لئے میں یہاں آیا ہوں ، میں بلیم گیم میں نہیں جاتا،اوپر والے کو جواب آپ نے بھی دینا ہے ، میں نے بھی دینا ہے ، ہم سب نے دینا ہے ۔
