وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، حالات اس کا تقاضہ کر رہے ہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کے حالات سب کے سامنے ہیں ،کب تک خیبرپختونخوا کے شہریوں کو بےیارومدد گار چھوڑا جاسکتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے کی تجویز زیر غور
آئین میں 2ماہ کیلئے گورنر راج کی گنجائش ہے، جس میں توسیع بھی ہوسکتی ہے۔دوسری جانب گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ گورنرراج لگانے سے متعلق مجھے علم نہیں،ملک یا صوبے کے مسائل احتجاج یا ملاقاتوں سےحل نہیں ہو سکتے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن وامان قائم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے،آئین میں گورنرراج کی شق موجود ہے۔
مولا جٹ کی سیاست کرنی ہے تو پھر گورنر راج کا آپشن بھی ہے، فیصل واوڈا
وزیراعظم اور بلاول بھٹو سے ملاقات میں گورنرراج سےمتعلق کوئی بات نہیں ہوئی،آج تک کچھ پتہ نہیں کل کیا ہوگا اس کے بارے میں بتا نہیں سکتا۔
