وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ پاکستان میں پہلے بین الاقوامی مقابلہ حسن قرأت میں دنیا کے 37 ممالک سے قرا حضرات نے شرکت کی۔
کنونشن سینٹر اسلام آباد میں ہونے والے پہلے بین الاقوامی مقابلہ قرآت کی تقریب تقسیم انعامات کے تقریب کے موقع پر اپنے خطاب میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار یوسف نے کہا کہ دنیا بھر سے آئے قرا کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں۔
دہشتگردوں کی پاکستان میں دراندازی کیلئے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
انہوں نے کہا کہ ہم خوش نصیب قرا کو مبارک باد پیش کرتے ہیں، قرآن مجید ہمارے لیے ہدایت کا سر چشمہ ہے، قرآن مجید کو نازل کرنا ہم پر اللہ کا احسان ہے، پاکستان میں تلاوت اور فروغ کے لئے کردار خراج تحسین کے قابل ہے۔
انہوں نے کہاکہ قرا کی تلاوت سے دل منور ہوا، دنیا کے قرا نے اس تقریب میں شامل ہوکر یکجہتی کا پیغام دیا، مختلف ممالک کے سفرا اور ارکان پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ نظام صلوۃ اور باجماعت نماز کا نظام پورے ملک میں علماء کی مشاورت سے شروع کر رہے ہیں عربی سیکھنا بہت ضروری ہے، پاکستان میں ہم قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں مگر سمجھنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عربی زبان سکھانے سے متعلق یونیورسٹی میں کورسز کا آغاز کر رہے ہیں، ہر سال ہم بین الاقوامی مقابلہ قرات کروائیں گے، پاکستان سمیت دنیا بھر کے ججز نے اس ایونٹ میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔
ہم اگلے سال مسلم ممالک سمیت جہاں جہاں مسلمان بستے ہیں ان تمام ممالک کو دعوت دیں گے، وزیر مذہبی امور نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف، قاری سید صداقت اور فیلڈ مارشل سمیت دفتر خارجہ کے تعاون پر شکرگزار ہوں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم امت مسلمہ کا روحانی ورثہ ہے، قرات کے روح پرور اجتماع میں شرکت میرے لئے باعث فخر ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ قرآن کریم ہدایت کا سر چشمہ ہے، عالمی سطح پر مقابلہ قرات کے انعقاد پر وزارت مذہبی امور کو مبارکباد دیتا ہوں۔
بلوچستان کے علاقے لورالائی اور ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
مقابلہ حسن قرآت میں پہلی پوزیشن ملائیشیا کے قاری ایمن رضوان نے حاصل کرکے 50 لاکھ روپے کا انعام جیتا، دوسری پوزیشن ایران کے قاری عدنان نے حاصل کی انہیں 30 لاکھ کا انعام دیا گیا۔
تیسری پوزیشن پاکستان کے قاری عبدالرشید نے حاصل کی انہوں نے 20 لاکھ روپے کا انعام جیتا۔ افغانستان کے قاری نے چوتھی، انڈونیشیا کے قاری نے پانچویں اور مراکش کے قاری نے چھٹی پوزیشن حاصل کی۔
