امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے ایک خفیہ اندرونی میمو میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کم از کم 10 بچے کووِڈ 19 ویکسی نیشن کے باعث ہلاک ہوئے، جن میں ممکنہ وجہ دل کی سوجن (Myocarditis) بتائی گئی ہے۔ یہ دعویٰ نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ میمو ایف ڈی اے کے چیف میڈیکل اور سائنسی افسر وِنے پرساد نے تیار کیا، جس میں بچوں کی عمریں، پس منظر یا ویکسین بنانے والی کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ میمو میں اسے ’’انتہائی تشویشناک اور گہرا انکشاف‘‘ قرار دیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ صحت (HHS)، جس کے تحت ایف ڈی اے کام کرتی ہے، نے اس بارے میں رائٹرز کی درخواست پر کوئی فوری ردِعمل نہیں دیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی ہیلتھ سیکریٹری رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر نے کووِڈ ویکسین پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے ویکسین تک رسائی کو صرف 65 سال سے زائد عمر کے افراد اور سنگین بیماریوں کے شکار شہریوں تک محدود کر دیا ہے۔
کینیڈی جونیئر، جو برسوں سے ویکسین پر تنقید کرتے رہے ہیں، نے اپنے حالیہ اقدامات میں آٹزم سمیت دیگر مسائل کو بھی ویکسین سے جوڑتے ہوئے ملک کے حفاظتی ٹیکہ جات کے نظام میں تبدیلیاں لانے کا اعلان کیا ہے۔
کووِڈ وبا کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ اور پھر جو بائیڈن کی حکومت نے کووِڈ ویکسین کو ’’جان بچانے‘‘ کا ذریعہ قرار دے کر بھرپور حمایت کی تھی، تاہم تازہ میمو سامنے آنے کے بعد امریکی سسٹم میں ویکسین نگرانی اور سائنسی جانچ کے عمل پر دوبارہ سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایف ڈی اے نئے اصول متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے جن میں تمام عمر کے گروپس کے لیے randomized studies لازمی قرار دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔
