ڈاکٹرز اکثر مختلف بیماریوں میں چاول اور بڑے گوشت (بیف) کھانے سے روک دیتے ہیں، اور اس کی کئی میڈیکل وجوہات ہوتی ہیں۔
اہرین کے مطابق بیماری کے دوران جسم کمزور ہوتا ہے، ہاضمہ سست پڑ جاتا ہے اور جسم کو ایسی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جو آسانی سے ہضم ہوسکے اور جسم پر اضافی بوجھ نہ ڈالے۔ چاول اور بیف دونوں ایسے کھانے ہیں جو بیماری کے دوران مسائل پیدا کرسکتے ہیں، اسی لیے ڈاکٹرز عموماً ان سے پرہیز تجویز کرتے ہیں۔
چاول کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہت جلد ہضم ہوجاتے ہیں، لیکن ان میں فائبر کم ہوتا ہے۔ بیماری کے دوران چاول کھانے سے خون میں شوگر جلدی بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر اگر مریض شوگر یا کمزوری کا شکار ہو۔
دوسری طرف چاول جسم میں نمی بڑھاتے ہیں، جس کے باعث بخار، نزلہ یا انفیکشن میں اکثر ڈاکٹرز اسے کھانے سے منع کرتے ہیں۔ کچھ کیسز میں چاول وزن بڑھانے یا جسم کو سست بنانے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
چاول یا روٹی، کون سی غذا زیادہ مفید؟ ماہرین نے حقیقت واضح کر دی
بڑے گوشت کے حوالے سے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتا ہے اور کمزور جسم پر بوجھ بنتا ہے۔ بیف میں چکنائی بھی زیادہ ہوتی ہے جو خون میں کولیسٹرول بڑھا سکتی ہے اور دل پر دباؤ ڈالتی ہے۔
بیمار افراد میں چونکہ جسم پہلے ہی انفیکشن یا سوزش سے لڑ رہا ہوتا ہے، اس لیے بھاری اور دیر سے ہضم ہونے والی غذا مزید بوجھ ڈال دیتی ہے۔ بیف سوزش بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی وجہ سے جوڑوں کے درد، بخار اور انفیکشن کے وقت اسے کھانے سے منع کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق بیماری کے دوران ہلکی، نرم اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا زیادہ مفید رہتی ہے، جیسے دال، سبزیاں، دلیا، چکن سوپ اور ابلی ہوئی اشیا۔ یہ غذائیں قوت بخش ہونے کے ساتھ جسم کو اضافی طاقت دیتی ہیں اور ہاضمے پر بھی کم بوجھ ڈالتی ہیں۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ چاول اور بیف کا استعمال مکمل طور پر نقصان دہ نہیں، لیکن بیماری کے دوران جسم کی حالت کو دیکھتے ہوئے ان سے پرہیز بہتر ثابت ہوتا ہے۔ جیسے ہی صحت بہتر ہو، ڈاکٹر کے مشورے سے معمول کی غذا دوبارہ شامل کی جا سکتی ہے۔
