کراچی کے بعد ای چالان (e challan)کا دائرہ کار سندھ کے مزید 2 شہروں سکھر اور حیدرآباد تک بڑھا دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کا کہنا ہے کہ صوبے میں لائسنس چیکنگ بھی جاری ہے،کمپیوٹر نظام میں غلطی ہوسکتی ہے مگر ہماری نیت صاف ہے،ٹریفک نظام بہتر کررہے ہیں تو تنقید کیوں کی جارہی ہے؟
کراچی میں ای چالان، عدالت کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا
دوسری جانب شہر قائد میں ٹریفک پولیس نے ای چالان کے نام پر ایک ماہ میں 71 کروڑ روپے سے زائد کی رقم جمع کر لی۔
رپورٹ کے مطابق کراچی ٹریفک پولیس نے گزشتہ ماہ جاری کیے گئے ای چالانز کی تفصیلی رپورٹ جاری کر دی۔ جس کے مطابق ایک ہی ماہ میں 71 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے۔
گزشتہ ماہ کراچی میں 93 ہزار سے زائد ای چالان جاری کیے گئے۔ جس میں سب سے زیادہ چالانز کی تعداد سیٹ بیلٹ نہ باندھنے والوں کی تھی۔ جن کی کل تعداد 57 ہزار 541 بنتی ہے۔ جن پر 57 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کیے گئے۔
کراچی کے فائیو اسٹار ہوٹل کو 28 سال قبل چوری ہونے والی کار کا 10 ہزار روپے کا ای چالان موصول
موٹرسائیکل سواروں نے بھی ٹریفک قوانین کی بہت سی غلطیاں کیں۔ جن میں سے 22 ہزار 257 موٹرسائیکل سوار کے چالان بغیر ہیلمٹ سے متعلق تھے۔ اور ان پر 11 کروڑ 11 لاکھ روپے سے زائد کے جرمانے کیے گئے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق ڈمپرز، ٹریلرز اور واٹر ٹینکروں میں نصب ٹریکر سسٹمز کے ذریعے اوور اسپیڈنگ کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں ایک ہزار 188 چالان جاری کیے گئے۔ جبکہ مزید 2 ہزار 699 چالان عام ڈرائیورز کے تیز رفتاری پر اور 3 ہزار 102 چالان سگنل کی خلاف ورزیوں پر کیے گئے۔
کراچی والوں نے ای چالان سے بچنے کا انوکھا طریقہ ڈھونڈ نکالا
فینسی نمبر پلیٹس کے چالان کی تعداد ایک ہزار 278 اور ٹنٹیڈ ونڈوز کے استعمال پر ایک ہزار 178 چالان جاری کیے گئے۔ جن پر مجموعی جرمانہ 2 کروڑ 94 لاکھ روپے سے زائد ہوئے۔ اسٹاپ لائن کی خلاف ورزی پر 611 اور غلط سمت میں گاڑی چلانے پر 426 ای چالان کیے گئے۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ قوانین کی پابندی کریں۔ کیونکہ یہ اصول نہ صرف ان کی اپنی حفاظت کے لیے ہیں۔ بلکہ سڑک پر موجود دیگر افراد کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہیں۔
