وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت اور وزیراعلیٰ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں دراصل ٹک ٹاک حکومت قائم ہے، جہاں عوام کی خدمت کے بجائے وقت دھرنوں میں ضائع کیا جا رہا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے پر توجہ دینے کے بجائے اڈیالہ جیل کے چکر لگانے میں مصروف ہیں۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وہ اختیار ولی کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے لیے خیبرپختونخوا آئے تھے، جہاں انہوں نے واضح کیا کہ اختیار ولی صوبے کے عوام کی سچی آواز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات غلط سمت میں ہیں اور عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے سیاسی تماشوں کو فوقیت دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی غیر قانونی ڈیمانڈ کررہے ہیں، جو جیل مینوئل کی صریح خلاف ورزی ہے۔
دھاندلی کا الزام لگانے والے ثبوت پیش نہیں کر سکتے، عطا تارڑ
ان کا کہنا تھا کہ کسی سزا یافتہ قیدی سے سیاسی مشاورت نہیں کی جاسکتی، اس لیے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کا بار بار مطالبہ غیر قانونی ہے۔
عطا تارڑ نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات میسر ہیں اور کسی اور قیدی کو اس سطح کی سہولتیں کبھی نہیں دی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا یافتہ ہیں اور ان کے حق میں بھارتی میڈیا مہم چلا رہا ہے۔
عطا تارڑ نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں بزدار پلس پلس کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا ہے، جو عثمان بزدار سے بھی زیادہ نااہل ثابت ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جھوٹ بولنا اور جھوٹا پراپیگنڈا کرنا موجودہ صوبائی حکومت کا وطیرہ بن چکا ہے، جبکہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ پنجاب میں ترقی کی نئی مثالیں قائم کی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکمرانوں کو موقع ملا ہے تو انہیں چاہیے کہ توجہ صرف عوام کی خدمت پر رکھیں۔
