چین کی پہلی تجرباتی چاند کی مٹی کی اینٹیں اسپیس اسٹیشن سے ایک سال کے بعد کامیابی کے ساتھ زمین پر واپس آگئیں، جو مستقبل میں چاند کی سطح پر تعمیرات کے لیے بنائی گئی تھیں۔
ماہرینِ تحقیق کے مطابق جب ان اینٹوں کا معائنہ کیا گیا تو پتا چلا کہ سخت خلائی ماحول، شدید تابکاری، اور انتہائی درجہ حرارت کی تبدیلیوں کے باوجود ان کی حالت بالکل ٹھیک رہی۔
مصنوعی ذہانت کے لیے خلا میں ڈیٹا مراکز، گوگل کا نیا منصوبہ
رپورٹ کے مطابق یہ تجربہ نومبر 2024 میں شروع ہوا تھا، جب چینی کارگو جہاز نے چاند کی مٹی سے ملتی نوعیت کی ساخت کے نمونے اسپیس اسٹیشن تک پہنچائے تھے۔

اینٹیں تین مختلف ٹیکنالوجیز سے تیار کی گئی تھیں، جن میں گرم دباؤ، برقی مقناطیسی سنٹرنگ، اور مائیکروویو سنٹرنگ شامل ہے، ان طریقوں کے ذریعے اینٹوں کی مضبوطی عام اینٹوں سے تین گنا زیادہ بنائی گئی تھی۔
دنیا کے نصف ساحل ختم ہونے کا خطرہ، سائنسدانوں نے خبردار کردیا
تحقیق ٹیم کے مطابق اینٹیں مکینیکل مظبوطی، حرارتی برداشت اور تابکاری مزاحمت کے اہم تجربات میں کامیاب رہیں، جو مستقبل میں چاند پر انسانی رہائش اور تعمیراتی کام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہیں۔
