اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دھاندلی کا الزام لگانے والے ثبوت پیش نہیں کر سکتے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے دور میں فسطائیت اپنے عروج پر تھی۔ اور مسلم لیگ ن کے کئی رہنما جیلوں میں قید تھے۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے مذاکرات اور سیاسی عمل جاری رکھنے کی بات کی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں ہمارے رہنما جیلوں میں تھے۔ لیکن ہم نے کبھی سیاسی انتقام کی سیاست نہیں کی۔ بانی پی ٹی آئی تو اہم سلامتی کونسل کے اجلاسوں میں بھی شریک نہیں ہوتے تھے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی کو میثاق معیشت کی دعوت بھی دی تھی۔ مگر جواب میں تضحیک اور مخالفت ملی۔ پی ٹی آئی کی نظر میں صرف وہ ٹھیک باقی سب غلط۔ ہیں۔
ہری پور انتخابات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہری پور میں حکومت اور انتظامیہ پی ٹی آئی کی تھی۔ لیکن جیت مسلم لیگ ن کی ہوئی۔ جو ان کے بیانیے کی خود تردید ہے۔
انہوں نے کہا کہ بابر نواز پی ٹی آئی کی نشست جیت کر آج ایوان میں پہنچے ہیں۔ جو ثبوت ہے کہ انتخابی عمل غیر جانبدار ہے۔ پی ٹی آئی صرف میڈیا پر شور مچاتی ہے۔ دھاندلی کے الزامات لگاتے ہیں لیکن کوئی ثبوت پیش نہیں کرتے۔
یہ بھی پڑھیں: ضمنی انتخابات میں دھاندلی کیخلاف ثبوتوں کیساتھ الیکشن کمیشن جائیں گے، گورنر خیبر پختونخوا
انہوں نے کہا کہ میرے خلاف بھی الزامات لگائے گئے تھے لیکن میں عدالتوں میں پیش ہوتا رہا۔ ہم نے اپوزیشن کو کئی بار مذاکرات کی پیشکش کی۔ اور سیاست میں بائیکاٹ نہیں ہوتا بلکہ مقابلہ کیا جاتا ہے۔ انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ پی ٹی آئی کا اپنا تھا۔
