امریکی ریاست واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی جس میں 2 اہلکار شدید زخمی ہو گئے۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قریب ایک شخص نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔
چین کا اپنے شہریوں کو جاپان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت
یہ واقعہ دارالحکومت کے مرکز میں فیروگٹ ویسٹ میٹرو اسٹیشن کے نزدیک اور وائٹ ہاؤس سے صرف چند بلاکس کی دوری پر پیش آیا۔
پولیس اور حکام نے اس حملے کو باقاعدہ منصوبہ شدہ حملہ قرار دیا ہے، یعنی فائرنگ میں خاص طور پر نیشنل گارڈ اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی۔ فائرنگ سے زخمی ہونے والے دونوں اہلکاروں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ افغان باشندے رحمان اللہ لکھنوال کے طور پر ہوئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وہ 2021 میں امریکہ آیا تھا۔
واقعے کے بعد، حکام اور انتظامیہ نے سرکاری عمارتوں اور نزدیکی علاقوں کو سیل کر دیا، راستے بند کیے گئے اور فوری تحقیقات شروع کی گئیں۔
National Guard shot near the White House at a little before 2:15.
I was in an Uber to work, with my cameraman, and heard multiple shots fired as we passed Farragut West.
A member of the National Guard fell while others rushed onto the scene.
Area still on lockdown and… pic.twitter.com/A4wKORrEZg
— Mari Otsu (@marisotsu) November 26, 2025
میئر واشنگٹن پیٹ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے واشنگٹن ڈی سی میں اضافی500 اہلکارتعینات کرنے کا حکم دیاہے، انہوں نے کہا کہ نشانہ بنا کر فائرنگ کا واقعہ ہوا ہے۔
ڈائریکٹرایف بی آئی کاش پٹیل نے کہا کہ دونیشنل گارڈز کو گولیاں لگیں جوتشویشناک حالت میں ہیں، اس واقعہ کوافسران پرحملے کے طور پر لیا جا رہا ہے، یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، صدرٹرمپ کوآگاہ کردیاگیا ہے۔
امریکی صدر نے واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر بھی بیان جاری کیا، انہوں نے پیغام میں فائرنگ کرنے والے شخص کو جانور قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے کو بھاری قیمت چکانی ہوگی۔
ہانگ کانگ کے رہائشی ٹاورز میں خوفناک آگ، 36 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وائٹ ہاؤس سے چندقدم کے فاصلے پرنیشنل گارڈزکوگولی ماری گئی، یہ واقعہ نفرت اوربرائی کی علامت ہے، حملہ ایک دہشت گردانہ کارروائی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق مشتبہ شخص 2021 میں افغانستان سے امریکا میں داخل ہوا تھا، بائیڈن دور میں افغانستان سے داخل ہونے والے ہر غیر ملکی کی دوبارہ جانچ ضروری ہے، انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پوری امریکی قوم اورانسانیت کے خلاف جرم ہے۔
