اسموگ اور سردی کا ملا جلا موسم ہر سال ملک کے مختلف شہروں میں صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتا ہے۔ ان مہینوں میں نہ صرف ہوا میں آلودگی بڑھ جاتی ہے بلکہ خشک موسم، کم درجہ حرارت اور وائرل انفیکشنز کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔
ماہرین صحت کے مطابق اگر چند بنیادی احتیاطی تدابیر اپنا لی جائیں تو بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔ اسموگ میں پائی جانے والی زہریلی ہوائیں سانس کی نالی، آنکھوں اور جلد کو متاثر کرتی ہیں۔ خاص طور پر بچے، بزرگ اور سانس کے مریض اس موسم میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ شہری اس دوران ممکن حد تک گھر سے غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں اور اگر باہر جانا ضروری ہو تو این 95 یا سرجیکل ماسک کا لازمی استعمال کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ آنکھوں کے تحفظ کے لیے چشمہ پہننے سے بھی فائدہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گھروں کے اندر نمی برقرار رکھنا بھی نہایت ضروری ہے، کیونکہ خشک موسم گلے اور ناک کی جھلیوں کو متاثر کر کے فلو اور نزلے کے امکانات بڑھا دیتا ہے۔
اس کے لیے بھاپ لینے، ہمیڈیفائر استعمال کرنے اور مناسب پانی پینے کی عادت اپنانا مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اس موسم میں وٹامن سی والی غذائیں جیسے مالٹا، لیموں، کیوی اور سبزیوں کا استعمال بھی قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اسموگ سے بچاؤ اور احتیاطی اقدامات کے حوالے سے ایڈوائزری جاری
سردی کے موسم میں وائرس تیزی سے پھیلتے ہیں، اس لیے ہاتھوں کی صفائی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی جاتی ہے۔
باہر سے آ کر ہاتھ دھونا، کھانستے یا چھینکتے وقت منہ ڈھانپنا اور بیمار افراد سے مناسب فاصلہ رکھنا بھی ضروری ہے۔
بچوں اور بزرگوں کو گرم کپڑے پہننے، ٹھنڈی ہوا سے بچنے اور نیم گرم پانی کے استعمال کی تلقین کی جاتی ہے تاکہ وہ موسمی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اسموگ کا اثر صرف لمحاتی نہیں بلکہ طویل مدتی بھی ہوتا ہے، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ اپنے گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں اس وقت کھولیں جب ہوا کا معیار قدرے بہتر ہو۔
علاوہ ازیں پودے لگانے، گاڑیوں کے کم استعمال اور ماحول دوست عادات اپنانے سے مجموعی فضائی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کھانسی، سانس میں دشواری، آنکھوں میں جلن یا تیز بخار کی علامات پیدا ہوں تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف بیماری کو بڑھنے سے روکتا ہے بلکہ اسموگ اور سردی کے موسم میں صحت کی حفاظت کو بھی یقینی بناتا ہے۔
