ڈیجیٹل لٹیروں نے عوام کو لوٹنے کا نیا طریقہ ڈھونڈ نکالا۔کراچی میں شہریوں کو موبائل میسجز کے ذریعے ای چالان کا جرمانہ بھرنے کےلئے انتباہی نوٹس ملنے لگے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں ای چالان کا ایک مثبت قدم اٹھایا گیا، تو آن لائن لٹیروں نے اسے ہی معصوم لوگوں کو شکار کرنے کےلئے اپنا ہتھیار بنالیا۔ عوام کو مختلف موبائل نمبرز سے مسیج آنے لگے، جن میں درج ہوتا ہے کہ آپ نے اب تک ای چالان کا جرمانہ نہیں بھرا۔ مزید جرمانے اور قانونی کارروائی سے بچنے کےلئے فوری جرمانہ بھریں۔
کراچی میں ای چالان، عدالت کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا
ساتھ ہی ایک جعلی ویب سائٹ ایڈریس ہوتا ہے۔ بس آپ نے جیسے ہی اسے کلک کیا، سمجھیں آپ اس کے شکنجے میں آگئے۔ آپ کا واٹس ایپ ، ایزی پیسہ اکاونٹ اور موبائل اکاونٹ بھی ہیک ہوسکتا ہے۔ جعلساز آپ کے واٹس ایپ اکاونٹ پر آنے والی مختلف ایپلی کیشنز کے کوڈز کا غلط استعمال کرسکتے ہیں۔
آپ کے دوست احباب سے پیسے بھی بٹور سکتے ہیں۔ اس لئے ای چالان سے متعلق آپ کے موبائل پر ایسا کوئی میسج آئے تو اس میں درج ایڈریس پر قطعی کلک نہ کریں۔
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کو ای چالان صرف تین ذریعے سے بھیجے جارہے ہیں۔ اول ڈاک کے ذریعے، دوسرا اگر شہری ہماری ایپ ڈاون لوڈ کرتا ہے تو وہاں ہمارا میسج آئے گا، تیسرا موبائل پر اگر آپ کو میسج آئے گا،تو اس پر بھیجنے والی کی جگہ سندھ پولیس لکھا ہوگا، کہ آپ کو یہ ٹکٹ ایشو کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل فراڈیوں نے عوام کو لوٹنے کےلئے اور کیا کیا جال بچھائے ہیں ۔۔آیئے ایک نظر ڈالتے ہیں۔
شہریوں کو مختلف کارڈز اور دیگر مصنوعات کے استعمال پر ریوارڈ پوائنٹس دیئے جاتے ہیں۔اس کو مدنظر رکھتے ہوئے پوائنٹس ریڈیمشن کے جعلی پیغامات کے ذریعے بھی لوگوں کو لوٹا جاتا ہے۔ فراڈیئے شہریوں کو پیغام بھیجتے ہیں کہ آپ کے ریوارڈز پوائنٹس کی مدت ختم ہونے والی ہے،لہذا اپنے پوائنٹس ریڈیم کرلیں۔ پیغام کے ساتھ وہ لنک ہوتا ہے جس میں آ پ کو اپنی معلومات دینا ہوتی ہے، جس میں اپنے کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈاور اس کے ساتھ Pin Codes یا سی ای وی کوڈ فراہم کرنے ہوتے ہیں، اور آپ جیسے ہی یہ معلومات دیتے ہیں، آ پ کے پیسے اکاونٹ سے نکل جاتے ہیں۔
کراچی کے فائیو اسٹار ہوٹل کو 28 سال قبل چوری ہونے والی کار کا 10 ہزار روپے کا ای چالان موصول
فراڈیوں کا ایک اور طریقہ واردات موبائل پر پیغام بھیجنا ہے کہ پارسل کی ڈیلیوری کےلیے ایک کوڈ بھیجاگیاہے۔۔تصدیق کےلیے وہ بتادیں۔ وہ کوڈ ۔۔آپ کے واٹس ایپ لاگ اِن کا کنفرمیشن کوڈ ہوتا ہے۔جیسے ہی آپ وہ کوڈ دیں گے۔۔آپ کا واٹس ایپ بندہوکر کہیں اور کھُل جائے گا۔پھر آپ کے نام کو استعمال کرکے آپ کے جاننےوالوں سے پیسے مانگے جاسکتے ہیں یا کسی دوسرے طریقے سے لوٹا جاسکتا ہے۔۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر کوئی دوست مالی مدد مانگے تو یہ دھوکا بھی ہوسکتا ہے۔ آن لائن فراڈیئے لوگوں کی واٹس ایپ اور فیس بک پر جعلی پروفائل بناکر آپ کے دوستوں اور دیگر جاننے والوں کی معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ان افراد کو پرائیوٹ میسجز پر مالی مشکلات کا بہانہ بناکر پیسے ٹرانسفر کہنے کا کہا جاتا ہے۔ یہ رقم لاکھوں نہیں ہزاروں میں ہوتی ہے اس لئے لوگ باآسانی ان کے چنگل میں آجاتے ہیں۔
کراچی ٹریفک پولیس کا ای چالان کیلیے روبوٹس متعارف کرانے کا فیصلہ
یہی نہیں محتاط رہیں۔ موبائیل مسیج پر آنے والا جعلی کوریئرکمپنی کی ویب سائٹ کا لنک بھی آپ کا بینک اکاونٹ خالی کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔شہریوں کو ڈی جی، ایف آئی اے کے نام سے جعلی ای میلز اور واٹس ایپ پیغامات میں سائبر کرائم کے الزامات لگا کر رقم بٹوری جارہی ہے۔ شہریوں کو بینک کے ہوبہو اصل یو اے این نمبر سے جعلی کال کرکے ذاتی معلوم حاصل کر کے بھی لوٹا جارہا ہے۔بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقم حاصل کرنے کے لئے آنے والے موبائل میسجز کے ذریعے بھی شہریوں کی جیبیں خالی کی جارہی ہے۔
