ڈی جی آئی ایس پی آر(dg ispr) کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان پرحملہ نہیں کیا،ہماری پالیسی دہشتگردی کیخلاف ہے افغان عوام کے خلاف نہیں۔،پاکستان نے کوئی حملہ کیا تو بتا کر کرے گا، چھپ کر نہیں کرے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے شہریوں پر حملہ نہیں کرتا،اگر افغانستان میں کارروائی کی تو صرف دہشتگردوں کو نشانہ بنائیں گے۔
سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا؛ افغانستان،بھارت، فتنۃ الہندوستان اور پی ٹی ایم کا پردہ چاک
وانا کیڈٹ کالج پر حملے میں خارجیوں نے افغانستان میں چھوڑا امریکی اسلحہ استعمال کیا۔افغانستان کےساتھ کئی بار مذاکرات کیے مگر کوئی نتیجہ نہیں نکلا،ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جائے۔
افغان عبوری حکومت کے الزامات بے بنیاد ہیں،ہم دہشتگردوں میں کوئی تفریق نہیں کرتے،افغان طالبان رجیم دہشتگردوں کے خلاف قابل تصدیق کارروائی کرے،افغانستان کی جانب سے قابل تصدیق کارروائی کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔
وانا کیڈٹ کالج میں پاک فوج کا آپریشن؛ تمام خارجی دہشتگرد ہلاک، اساتذہ اور طلبا کو ریسکیو کرلیا گیا
سوشل میڈیا اکاؤنٹس ریاست کے خلاف بیانیہ چلاتے ہیں،بلوچستان حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کررہی ہے،4نومبر سے اب تک 4 ہزار 910خفیہ اطلاع پر آپریشن کئے جا چکے ہیں،پاکستان میں حالیہ4حملوں میں افغان دہشتگرد موجود تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ فیض حمید کا کورٹ مارشل ایک قانونی اور عدالتی معاملہ ہے،معاملےپر قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے،جب فیصلہ آئے گا تو آگاہ کیا جائے گا۔
