تھائی لینڈ میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا جہاں ایک 65 سالہ عورت کو مردہ قرار دے کر تدفین کے لیے بدھ مت کے مندر لایا گیا، مگر اچانک تابوت میں حرکت ہونے لگی۔
بنکاک کے نزدیک نونتھابوری صوبے کے واٹ رت پرکھونگ تھام مندر کے عملے نے بتایا کہ خاتون کے بھائی نے اسے صوبہ فیتسانولوک سے تقریباً 300 میل دور لایا تھا۔ وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ اس کی بہن 2 روز قبل انتقال کرچکی ہے۔
بھائی کے مطابق خاتون 2 سال سے صاحبِ فراش تھیں اور اچانک سانس لینا بند کر دیا تھا۔
وہ اسے اعضاء کے عطیہ کیلئے بنکاک کے اسپتال بھی لے گیا، لیکن موت کا سرکاری سرٹیفکیٹ نہ ہونے کے باعث اسپتال نے لاش قبول کرنے سے انکار کردیا۔
بعد ازاں جب وہ مندر میں آخری رسومات کیلئے پہنچا تو عملے نے کاغذی کارروائی پوری نہ ہونے پر انہیں روک دیا۔
اسی دوران تابوت سے ہلکی دستک سنائی دی جس پر تابوت کھولا گیا تو خاتون آنکھیں جھپک رہی تھیں اور ہاتھ ہلا رہی تھیں۔
مندر کے عملے نے فوری طور پر ایمبولینس بلوا کر اسے قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
مندر کے منتظم نے کہا کہ خاتون کے تمام طبی اخراجات مندر برداشت کرے گا۔
View this post on Instagram
دنیا بھر میں اس نوعیت کے واقعات وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں جہاں تدفین یا آخری رسومات سے قبل بعض افراد زندہ پائے گئے۔
امریکا میں جون 2024 میں ایک 74 سالہ خاتون کو نرسنگ ہوم نے مردہ قرار دیا تھا مگر جب لواحقین اسے دفنانے لے گئے تو وہ سانس لیتے ہوئے پائی گئی۔
