معروف اداکارہ ماہرہ خان کا کہنا ہے کہ فلم نیلوفر کی شوٹنگ 2020 میں مکمل ہو چکی تھی اور ان کے خیال میں یہ فلم بہت پہلے ریلیز ہو جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مداح ان کی جوڑی سے بڑی توقعات رکھتے ہیں، اسی لیے وہ دونوں ایسے ہی پراجیکٹس قبول کرتے ہیں جو دل سے پسند آئیں۔
ہم نیوز کے پروگرام ہم دیکھیں گے میں اپنی فلم نیلوفر کے حوالے سے ماہرہ نے بتایا کہ انہیں اس فلم کی کہانی نے قائل کیا۔ فلم ایک ایسے مصنف کے گرد گھومتی ہے جو کچھ لکھ نہیں پا رہا ہوتا اور ایک ٹرین سفر کے دوران اس کی ملاقات ایک نابینا لڑکی سے ہوتی ہے۔ دونوں پھر لاہور کا سفر کرتے ہیں، جہاں نیلوفر کا تعلق بھی ہے۔ وہ ایک ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے اپنی آواز کے سائن محفوظ کرتی ہے۔
اپنے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے ماہرہ نے کہا کہ نابینا لڑکی کا کردار ادا کرنا بہت مشکل تھا۔ اس کے لیے انہیں متعدد فلمیں دیکھنے کا مشورہ دیا گیا، جبکہ وہ دو نابینا لڑکیوں سے بھی ملیں تاکہ کردار کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں۔
فواد خان کو بطور پروڈیوسر کیسا پایا؟ اس سوال پر ماہرہ مسکراتے ہوئے بولیں کہ فواد نہایت اچھے پروڈیوسر ہیں۔ انہوں نے شوٹنگ کے دوران ہر فرد کا خیال رکھا اور ایسا ماحول فراہم کیا جس سے اداکار پوری توجہ اپنے کردار پر مرکوز رکھ سکیں۔
ماہرہ نے فواد کے ساتھ اپنی دوستی کو ٹام اینڈ جیری جیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں ایک دوسرے پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں اور بہترین دوست ہیں۔
پاکستان میں سنجیدہ موضوعات پر بننے والی فلموں کی کامیابی کے بارے میں ماہرہ خان نے کہا کہ ہمارے ٹی وی ناظرین بہت سمجھدار ہیں، مگر فلم بینوں کا مزاج کچھ مختلف ہے۔
کبھی ملک میں معیاری فلمیں بنتی تھیں لیکن سیاسی اور دیگر مسائل کے باعث یہ سلسلہ متاثر ہوا، ماہرہ
انہوں نے کہا کہ کبھی ملک میں معیاری فلمیں بنتی تھیں لیکن سیاسی اور دیگر مسائل کے باعث یہ سلسلہ متاثر ہوا۔ ماہرہ خان نے نیلوفر کا موازنہ اپنے ڈرامہ ہمسفر سے کیا اور بتایا کہ ہم نیٹ ورک ان کے لیے ہمیشہ گھر جیسا رہا ہے، کیونکہ انہوں نے سب سے زیادہ کام ہم ٹی وی کے ساتھ ہی کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ہم ٹی وی ان کے لیے میکے جیسا ہے، جہاں انہیں ہمیشہ بے حد محبت ملی۔ شوٹنگ کے تجربات پر بات کرتے ہوئے ماہرہ نے ہنستے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ وقت پر پہنچتی تھیں، مگر فواد خان کو لگتا تھا کہ وہ دیر سے آئی ہیں۔
اینکر نے پوچھا کہ سیٹ پر کس کا مزاج زیادہ گرم ہوتا تھا؟ جس پر ماہرہ نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ فواد خان کو اکثر غصہ آ جاتا تھا۔ منصور علی خان نے مزید پوچھا کہ پھر آپ تو سیٹ پر ہنستی کھیلتی رہتی ہیں؟ اس پر ماہرہ نے مسکرا کر کہا کہ بالکل، آپ نے صحیح کہا میں سیٹ پر ہنستی بھی ہوں اور کھیلتی بھی رہتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں شوٹنگ کے دوران گزارا ہوا وقت بہت پسند ہے، اور نیلوفر کے سیٹ پر کام کرنا تو ان کے لیے خاص طور پر خوشگوار تجربہ تھا۔
اپنے کردار پر مزید بات کرتے ہوئے ماہرہ نے بتایا کہ انہیں ہمیشہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ اپنے سین کو مزید بہتر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ڈائریکٹر “ڈن” بولتے تھے تو انہیں اور فواد خان کو ایسا لگتا تھا جیسے انہوں نے ابھی صرف ایک ہی ٹیک دیا ہے۔
ماہرہ نے ہنستے ہوئے بتایا کہ جب یہ صورتحال بار بار ہوئی تو انہوں نے فواد سے کہا کہ سب ٹھیک ہے، کیونکہ فواد بھی بہترین ٹیک دینے کے عادی ہیں اور وہ دونوں ہر سین کو بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ جس طرح کا سین انہیں چاہیے تھا، وہ انہیں مل چکا تھا۔
پنجابی بولنے میں وسعت، پنجابی شاعری مقبول، مولا جٹ کے ڈائیلاگز آج بھی یادگار، ماہرہ خان
پنجابی زبان پر بات کرتے ہوئے ماہرہ خان نے کہا کہ پنجابی ایک بے حد وسیع اور خوبصورت زبان ہے، اور جب کوئی پنجابی بولتا ہے تو الفاظ خود ہی روانی کے ساتھ ادا ہونے لگتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجابی شاعری بھی لوگوں میں کافی مقبول ہے۔ ماہرہ نے اپنی فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب انہوں نے فلم میں پنجابی بولی تو کچھ لوگوں نے تنقید کی کہ وہ ’’اردو جیسی پنجابی‘‘ بول رہی ہیں، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگوں کو آج بھی ان کے ڈائیلاگز یاد ہیں۔
بات کرتے ہوئے انہوں نے اپنا مشہور ڈائیلاگ ’’اے مولیا میں تیری پکی پکی معشوق آں‘‘ دوبارہ ایکٹنگ کے ساتھ سنایا۔
ماہرہ خان نے بتایا کہ پنجابی کے ڈائیلاگ یاد کرنا ان کے لیے بہت مشکل تھا، اس دوران حمزہ علی عباسی اور علی عظمت نے ان کی بھرپور مدد کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ ان کا تعلق کراچی سے ہے، اس لیے وہ اردو زبان میں کافی روانی رکھتی ہیں۔
بھارت میں لوگ ہماری اردو کے مداح ہیں، شاہ رخ خان میں بہت عاجزی ہے، ماہرہ خان
ماہرہ خان نے کہا کہ بھارت میں لوگ ہماری اردو کے بڑے مداح ہیں۔ پاکستان اور بھارت میں کام کرنے کے تجربے کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں بہترین لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا، جنہوں نے ان کا بہت خیال رکھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم دونوں ممالک میں ایک ہی زبان بولتے ہیں اور ہماری بہت سی چیزیں ایک جیسی ہیں، اس لیے کام کرنا آسان اور خوشگوار رہا۔
شاہ رخ خان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہرہ خان نے کہا کہ شاہ رخ خان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ نہایت عاجز اور زمین سے جڑے ہوئے انسان ہیں اور اپنے کام سے بے حد محبت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بھی ہمایوں سعید، فواد خان اور فہد مصطفی اسی عاجزی کے حامل ہیں، اور یہی ان کی کامیابی کا راز ہے۔
پاک بھارت جنگ کے دوران سوشل میڈیا پر کھل کر بات کرنے کے حوالے سے ماہرہ خان نے کہا کہ وہ ایک جذباتی لمحہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ یہ نہیں سوچ سکتی تھیں کہ ان کے لیے کیا فائدہ ہے، بس غصے میں جو دل میں آیا اسے لکھ دیا۔
ماہرہ نے کہا کہ وہ اپنے مداحوں سے بہت محبت کرتی ہیں، چاہے وہ بھارت سے ہوں، مگر انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ پاکستان ان کا گھر ہے۔
کس پاکستانی اداکارہ کے ساتھ مقابلہ سمجھتی ہیں؟ اس سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ کسی سے مقابلہ نہیں کرتی اور اگر کریں تو خود پیچھے رہ جائیں گی، کیونکہ ہر کوئی منفرد ہے۔
اپنی پسندیدہ اداکاروں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ انہیں شہناز شیخ، صنم بلوچ اور سجل علی پسند ہیں۔
پاکستانی اداکارمیں ان کے پسندیدہ فہد مصطفی، ہمایوں سعید اور فواد خان ہیں جب کہ لکھاریوں کے بارے میں ماہرہ نے حسنیہ معین، فرحت اشتیاق، عمیرہ احمد اور مصطفی آفریدی کا ذکر کیا۔
