اسلام آباد: سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کے بیانات خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہیں۔ جبکہ پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔
سینیٹر شیری رحمان نے بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر ردعمل میں کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان نہ صرف جارحانہ بلکہ تاریخ سے نابلد ہونے کا ثبوت ہے۔ اور بھارتی وزیر دفاع کو بھارتی شمال مشرقی علاقوں پر توجہ دینی چاہیے۔ جہاں 10 لاکھ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے باوجود تحریک آزادی برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ پہلا صوبہ ہے جس نے تقسیم ہند سے قبل پاکستان میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اور پاکستان سے وابستگی اتفاق سے صرف مسلمان سندھیوں تک محدود نہیں تھی۔ یہ سندھ کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بھارت کے وزیر دفاع کے بیانات خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش ہیں۔ اور ہندوستان کو اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ خطے میں امن قائم کرنے کے لیے کشمیر کے مسئلے کا منصفانہ حل ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پرامن اور قانونی مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔ جبکہ خطے میں پائیدار امن کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی تعمیل ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیاست میں سب سے بڑی غلطی بائیکاٹ کی ہوتی ہے، عطا تارڑ
پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ انتہا پسندی اور فرقہ وارانہ بیانیے سے خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے۔ اور پاکستان کا مؤقف ہمیشہ بین الاقوامی قوانین پر مبنی رہا ہے۔ خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام فریقین کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
