قومی ہیرو ارشد ندیم وطن واپس پہنچ گئے، ارشد ندیم کا شاندار استقبال کیا گیا۔
شہریوں نے ارشد ندیم پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں، اس موقع پر ارشد ندیم نے کہا کہ رب کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے یہ کامیابی ملی۔
دوسرا ایشز ٹیسٹ، آسٹریلوی ٹیم میں بڑی تبدیلیاں
ارشد ندیم کا کہنا تھا کہ پوری قوم کی دعاؤں سے مجھے عزت ملی، انہوں نے کہا کہ انجری کے باعث پہلے میڈل نہیں جیت سکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ انجری کے بعد اپنے آپ پر بہت محنت کی، انجری کے بعد گولڈ لینا بہت مشکل ہوتا ہے، میں نے اور میرے کوچ نے بہت محنت کی اور کامیابی ملی۔
انہوں نے اس موقع پر واپڈا اور لیسکو کا بھی شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا کہ واپڈا لیسکو نے مجھے نوکری دی، گریڈ دیا، یہ کھلاڑی کیلئے بہت حوصلہ افزا بات ہوتی ہے۔
ارشد ندیم نے پاکستان اسپورٹس بورڈ فیڈریشن کا بھی شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا کہ 2026 میں ٹورنامنٹ کیلئے بھی محنت کروں گا۔
ان کا کہنا تھا کہ گولڈ گولڈ ہوتا ہے چاہے جتنے میٹرز پر حاصل کیا جائے، انہوں نے کہاکہ انجری کے ساتھ اس لیول کی ٹریننگ نہیں کی۔
پاکستان شاہینز نے حقیقت میں شاہینز کی طرح ٹورنامنٹ کھیلا ، چیئرمین پی سی بی
دوسری جانب اسلامک یکجہتی گیمز میں سلور میڈل حاصل کرنے والے یاسر سلطان نے کہا کہ میں بہت خوش ہوں یہ میرا پہلا میڈل تھا، اگلے مقابلوں میں مزید محنت کروں گا۔
یاسر سلطان نے کہا کہ جب ساتھ اتنا بڑا کھلاڑی ہو تو پریشر ہوتا، ہم دونوں نے مقابلوں کو خوب انجوائے کیا۔
