ملک بھر میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ سست ہونے کی اصل وجوہات سامنے آگئی ہیں۔
موقر قومی اخبار کی رپورٹ کےمطابق طویل لوڈشیڈنگ اور رائٹ آف وے مسائل سمیت تجارتی بجلی کی محدود رسائی، چوری اور تخریب کاری کے واقعات کی وجہ سے نیٹ ورک متاثر ہیں۔
موبائل فونزکی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ
پی ٹی اے نے گزشتہ 5 سال میں ٹیلی کام کمپنیوں کو 68.9 ملین کے جرمانے کئے ، 11 کیس تاحال عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔
پی ٹی اے دستاویز کے مطابق خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سروس کے معیار میں کمی سامنے آئی ہے۔
جنوری تا جون 2025 تک تمام آپریٹرز نے کال مکمل ہونے کا بینچ مارک پورا کیا، اوسط کال کمپلیشن 99.05 فیصد اور ڈیٹا اسپیڈ 6.73 ایم بی پی ایس رہی۔
پاکستان نے ڈیٹا چوری، ہیکنگ سے محفوظ اپنا موبائل فون تیار کر لیا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ توانائی بحران کے باعث نیٹ ورک دستیابی لائسنس معیار تک نہ پہنچ سکی۔ ملک بھر کی 9ہزار موبائل سائٹس مسائل کا شکار ہیں۔
