سعودی عرب سےپاکستان کیلئے آئل فیسلیٹی کی فراہمی مزید بڑھ گئی ہے ۔
موقر قومی اخبار کے مطابق سعودی عرب سے رواں مالی سال کے پہلے چارماہ میں تیل سہولت کی فراہمی بڑھ کرچالیس کروڑڈالرزکی ہوگئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، وفاقی حکومت، اوگرا و دیگر حکام سے جواب طلب
سرکاری دستاویز کے مطابق پاکستان کوسعودی عرب سےاکتوبرمیں مزید 10 کروڑڈالرز کی تیل کی سہولت ملی ۔
دوسری جانب سعودی عرب نے پاکستان کو ایک ارب ڈالر مالیت کے تیل کی ادائیگی کو ایک سال کے لیے مؤخر کر دیا۔
وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان پر 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس کو بھی مزید مدت کے لیے بڑھا دیا ہے۔ اور یہ سہولت سعودی ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت فراہم کی گئی ہے۔
سعودی عرب کی 290 ارب روپے کی تیل فنانسنگ سہولت پاکستان کی توانائی درآمدات میں معاون ثابت ہو گی۔ جبکہ اسٹیٹ بینک میں رکھے سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ذخائر کی مدت بھی بڑھا دی گئی ہے۔ جن میں سے 2 ارب ڈالر دسمبر اور 3 ارب ڈالر جون 2026 میں میچور ہوں گے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات میں 7فیصد کمی
دستاویزات کے مطابق پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو سعودی سہولت کے تحت تقریباً 85 ارب روپے مالیت کا تیل فراہم کیا گیا۔ سعودی عرب ہر ماہ تقریباً 100 ملین ڈالر کے برابر تیل پاکستان کو فراہم کر رہا ہے۔ جو پاکستانی کرنسی میں 28.37 ارب روپے بنتے ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب کے 5 ارب ڈالر کے ٹائم ڈیپازٹس پر سالانہ 4 فیصد سود لاگو ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب گزشتہ کئی برسوں سے ان فنڈز کی تجدید کرتا آ رہا ہے۔ اور یہ ذخائر جن کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ہزار 445 ارب روپے بنتی ہے۔ یہ پاکستان کو بجٹ سپورٹ کے طور پر فراہم کیے گئے تھے۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کوئی قلت نہیں ،ترجمان اوگرا
سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو فنڈز کی فراہمی بیرونی مالیاتی توازن کو مستحکم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام پیدا کرنے کے لیے جاری کیے گئے تھے۔
