بھارت میں کھانسی کا شربت پینے سے حالیہ مہینوں میں کئی بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، اور اس افسوس ناک واقعے نے ملک کے دوا سازی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق تمل ناڈو کے ہیلتھ اور ڈرگ سیفٹی افسران کا خیال ہے کہ شربت میں استعمال ہونے والا پروپیلین گلیکول ممکنہ طور پر صنعتی کیمیکل ڈائی ایتھیلین گلیکول سے آلودہ تھا۔
یہ وہی مادہ ہے جو فارماسیوٹیکل گریڈ کے بجائے عام طور پر صنعتی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور غلط استعمال کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیقات سے پتا چلا کہ سریسن فارما نے یہ کیمیکل سن رائز بایوٹیک کے ذریعے جنکشال اروما نامی سپلائر سے خریدا تھا۔ لیبارٹری تجزیوں میں شربت میں صنعتی زہر کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جس کے بعد حکام اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ یہ کیمیکل فعال اجزا کو حل کرنے والے محلول میں کس طرح شامل ہوا۔
واقعے کے بعد سریسن فارما کا مینوفیکچرنگ لائسنس منسوخ کر دیا گیا اور کمپنی کے بانی جی رنگاناتھن کو گرفتار کر لیا گیا۔ مرکزی ڈرگ ریگولیٹر نے بچوں کے لیے بننے والے شربتوں کی اضافی نگرانی اور مزید انسپیکشنز کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
فیکٹری کے معائنے میں صفائی کے مسائل، ریکارڈ میں بے ضابطگیاں اور متعدد حفاظتی خلاف ورزیاں سامنے آئیں، اگرچہ ریگولیٹر نے ان غلطیوں کو ہلاکتوں کا براہ راست سبب قرار نہیں دیا۔
بھارت میں کھانسی کا شربت پینے سے 17 بچوں کی موت، دوا ساز کمپنی کا مالک گرفتار
مزید یہ بھی معلوم ہوا کہ پروپیلین گلیکول بغیر سیل کے دوبارہ پیک کر کے سپلائی کیا گیا تھا، جبکہ جنکشال اور سن رائز دونوں کے پاس فارماسیوٹیکل گریڈ اجزا فراہم کرنے کا لائسنس بھی موجود نہیں تھا۔
یہ واقعہ بھارت میں دوا سازی کے حفاظتی معیار، سپلائی چین کے کنٹرول اور ریگولیٹری نظام کی کمزوریوں کو نمایاں طور پر ظاہر کرتا ہے۔
