معروف گلوکار اور برابری پارٹی کے سربراہ جواد احمد نے مزدوروں کی کم از کم تنخواہ چار لاکھ روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان کا بیان وائرل ہے جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی حکومت قائم ہوئی تو پاکستان کے مزدوروں کی کم از کم تنخواہ 4 لاکھ روپے ہوگی۔
اسکا گراؤنڈ ریالٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے.
دوسرا اس بندے نے اکنامکس کہاں سے پڑھی ہے ؟
جو چیزیں موجودہ حکمران جماعت یا پچھلی حکومتوں کو سمجھ نہیں آ سکیں وہ اسکو پتہ ہیں؟
جواد صاحب کو تو آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک میں ہونا چاہئے.
یہاں تو 98% افسروں کی سیلری اتنی نہیں ہے
پاگل کہیں کا— Nauman Khan (@RealNaumankhan) November 20, 2025
ان کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے مختلف انداز میں تبصرے کئے، کئی صارفین نے تو ان کے اس بیان کا مذاق بھی اڑایا۔ مقدس فاروق اعوان نامی صارف نے طنزاً کہا کہ اگر جواد احمد کی حکومت آئی تو میں مزدور بننا پسند کروں گی۔
نور نامی صارف کا کہنا تھا کہ جواد احمد زیادہ لمبی نہیں چھوڑ گئے، نعمان نامی صارف نے کہا کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے، انہوں نے مزید لکھا کہ دوسرا اس بندے نے اکنامکس کہاں سے پڑھی ہے، جو چیزیں موجودہ حکمران جماعت یا پچھلی حکومتوں کو سمجھ نہیں آ سکیں وہ اس کو پتہ ہیں؟

نعمان نامی صارف نے مزید کہا کہ جواد صاحب کو تو آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک میں ہونا چاہیے، یہاں تو 98 فیصد افسروں کی سیلری اتنی نہیں ہے، پاگل کہیں کا۔
صبا قمر سے دشمنی، ماہرہ خان نے خاموشی توڑ دی
اس پر جواد احمد نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ جو جاہل لوگ اس بات پر ہنس رہے ہیں وہ کیوں چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو؟ اگر شریف، بھٹو زرداری خاندان، عمران خان، شاہ محمود وغیرہ پاکستان کے ظالم سرمایہ داری نظام میں ایک مہینے میں کروڑوں، اربوں روپے کماتے ہیں تو پھر ایک مڈل کلاس یا غریب مزدور کی تنخواہ چار لاکھ روپے ہونے میں کیا مسئلہ ہے؟ کیا مزدور، کسان اور ان کے بچے انسان نہیں؟
