لاہور پولیس کی جانب سے سوشل میڈیا پر چیٹ جی پی ٹی کے بھونڈے استعمال کا بھانڈا پھوٹ گیا۔
لاہور پولیس کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایکس پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی۔ جس میں مقامی مذہبی علما کے ساتھ ملاقات کی تصاویر شامل تھیں۔ تصاویر میں پولیس افسران اور علمائے کرام بیٹھے دکھائی دے رہے تھے۔ پوسٹ کے آغاز پر واضح طور پر “ChatGPT said” لکھا دکھائی دے رہا تھا۔
سوشل میڈیا پر پولیس کا عوام سے رابطے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر انحصار نے ادارے کا پول کھول دیا۔
مذکورہ پوسٹ بغیر ترمیم کے کافی دیر تک ایکس پر موجود رہی۔ جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ لاہور پولیس کے سوشل میڈیا افسر نے متن براہِ راست چیٹ جی پی ٹی سے کاپی کر کے پیسٹ کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک عام پولیس میٹنگ کا اعلان ڈیجیٹل انداز میں ایسا لگا جیسے ہوم ورک کے انسٹرکشنز ہی جمع کروا دیئے گئے ہوں۔
اگرچہ ملاقات اور پیغام بالکل معمول کے مطابق لگ رہے ہیں۔ مگر AI کی یہ چھوٹی سی انٹری غیر ارادی طور پر نمایاں ہو گئی۔

آج کل تقریبا ہر کوئی چیٹ جی پی ٹی سے مدد لے رہا ہے۔ اور حال ہی میں ایک مشہور اخبار بھی اپنے نیوز پیج سے چیٹ جی پی ٹی کے لکھے الفاظ ہٹانا بھول گیا تھا۔
پولیس کے میڈیا افسر کی اس بے ضرر سی غلطی نے عوام کو بڑے پیمانے پر تفریح کا سامان فراہم کر دیا۔
