اسپین نے سوشل میڈیا کمپنی میٹا کے خلاف باضابطہ تحقیقات شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق ہسپانوی پارلیمنٹ فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کی پرائیویسی کی ممکنہ خلاف ورزیوں کا جائزہ لے گی۔
ہسپانوی وزیراعظم نے اس معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میٹا نے مبینہ طور پر لاکھوں صارفین کی جاسوسی کی ہے۔
ان کے مطابق کمپنی نے اینڈرائیڈ ڈیوائسز کے صارفین کی ویب سرگرمی ٹریک کرنے کے لیے ایک خفیہ میکانزم استعمال کیا، جو سنگین پرائیویسی خدشات کو جنم دیتا ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ اسپین میں قانون کسی بھی بڑی ٹیکنالوجی کمپنی سے بالاتر ہے اور جو کوئی بھی شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرے گا، اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران میٹا کے ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقہ کار، صارفین کی رضامندی کے بغیر معلومات حاصل کرنے کے الزامات اور متعلقہ سیکیورٹی پروٹوکول کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
فیس بک میں بہترین فیچر کا اضافہ کر دیا گیا
اس کارروائی کو یورپ میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی نگرانی کے سخت ہوتے ماحول کی ایک اور بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
