امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے رواں سال پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک نئی جنگ رکوا کر خطے کو بڑے بحران سے بچایا۔
صدر ٹرمپ نے اس واقعے کو اُن آٹھ عالمی تنازعات میں شامل کیا جنہیں وہ اپنے بقول ’’تباہی کے دہانے سے واپس لائے‘‘۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ مشترکہ گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے دنیا کے کئی خطوں میں لڑائی رکوانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر جنوبی ایشیا کے بحران کو اپنی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا۔
ٹرمپ کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گیا تھا اور وہ ’’صحیح وقت پر مداخلت‘‘ نہ کرتے تو سنگین تصادم ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک اب ’’بہتر انداز‘‘ میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ مئی 2025 میں مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد دونوں ممالک میں شدید عسکری تناؤ پیدا ہوا تھا۔ حملے میں 26 افراد مارے گئے تھے جس کا الزام بھارت نے پاکستان پر عائد کیا، تاہم اسلام آباد نے الزام مسترد کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
چار روز تک جاری جھڑپوں میں پاکستان نے بھارتی لڑاکا طیارے اور متعدد ڈرون مار گرائے تھے، جس کے بعد 10 مئی کو جنگ بندی طے پائی۔ امریکی کردار کے باعث یہ کشیدگی ختم ہوئی تھی۔
تاہم ٹرمپ کے حالیہ بیان سے یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف پھر کوئی ایڈونچر کرنے کے لیے پر تول رہا تھا جسے امریکی صدر نے مداخلت کر کے روکا۔
