سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن(sharjeel memon) کا کہنا ہے کہ سندھ کی تقسیم مشکل ہی نہیں ناممکن ہے،سندھ کوئی کیک نہیں جسے آپ کاٹ کر کھاجائیں۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے ہمیشہ جھوٹ کی سیاست کی ہے،ایم کیو ایم کی سیاست ختم ہوچکی ہے،انہیں چاہیے آپس میں لڑائیاں ختم کر کے عوامی سیاست کرے۔
مشکل فیصلے تکلیف دہ ضرور مگر مقصد عوام کی بہتری ہوتا ہے، شرجیل میمن کا ای چالان پر بیان
نئے صوبے کی بات مردہ سیاست کو زندہ کرنے کیلئے ہے،ایم کیو ایم نے ہمیشہ سے الزام تراشی کی سیاست کی،27ویں ترمیم کے ایجنڈے میں بلدیاتی حکومت کا ذکر تھا ہی نہیں۔
میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا ذکر موجود تھا،پیپلز پارٹی پر الزام لگانا ایم کیو ایم کا پراناوطیرہ ہے، پیپلز پارٹی نہیں چاہتی کہ ایم کیو ایم کی پارٹی ختم ہو جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 18ویں ترمیم میں صوبائی خودمختاری سے متعلق تحفظات سامنے رکھے،آج ملک میں ہر صوبے کی برابر اہمیت ہے،ماضی میں صوبوں کی برابری نہیں تھی تو سب سے زیادہ نشانہ پیپلز پارٹی بنی۔
ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر نے پیپلز پارٹی پر بے بنیاد الزام تراشی کی،ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کی، انکو پتہ تھا کہ شکست ہوگی۔
بینظیر کی حکومت 2 بار تحلیل کی گئی،عدالت گئیں تو انصٓف نہیں ملا،آزاد عدلیہ کی سب سے بڑی ضامن پیپلز پارٹی ہے،آصف علی زرداری کا کوئی جرم نہیں تھا اس کے باوجود 11 سال جیل کاٹی۔
وفاقی حکومت کی گندم خریداری پالیسی پیپلزپارٹی کے مؤقف کی جیت ہے، شرجیل میمن
پیپلز پارٹی نے27ویں ترمیم کی کوئی شق چھپ کر تسلیم نہیں کی،27ویں آئینی ترمیم کے بعد آئینی عدالتیں بنیں،آئین پاکستان میں صوبے بنانے کا طریقہ کار موجود ہے۔
سندھ کوئی کیک نہیں جس کو کوئی تقسیم کر کے کھا سکتا ہے،پاکستان بنانے کی پہلی قرار داد سندھ اسمبلی میں لائی گئی،بہتر ہے ایم کیو ایم کی بات ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دی جائے۔
ہمارے دلوں میں ایم کیو ایم کیلئے بہت احترام ہے،پیپلز پارٹی نے کبھی غیرذمہ دارانہ بیانات نہیں دیئے،ثاقب نثار کے دور میں عدالتی نظام کو بہت نقصان پہنچا۔
