لندن میں شہر کے مرکزی علاقوں میں ٹریفک کم کرنے کیلئے کنجیسچن چارج میں آئندہ سال 20 فیصد اضافہ کر کے 18 پاؤنڈ کردیا جائے گا۔
اب الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان بھی اس چارج کے دائرے میں آ جائیں گے، تاہم انہیں 25 فیصد رعایت دی جائے گی، ٹرانسپورٹ فار لندن کے مطابق یہ تبدیلی اس لیے ضروری ہے تاکہ روزانہ تقریباً 2 ہزار 200 اضافی گاڑیوں کے شہر میں داخل ہونے سے بچا جا سکے اور کنجیسچن چارج کا اصل مقصد یعنی ٹریفک کم کرنا متاثر نہ ہو۔
واٹس ایپ کی نئی ڈیسک ٹاپ ایپ پاکستان میں متعارف
لندن کے میئرصادق خان نے اس پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کم کرنا نہ صرف شہریوں کیلئے بلکہ معیشت کے لیے بھی اہم ہے، موٹرنگ تنظیموں نے اس فیصلے پرتنقید کی اور کہا کہ اس سے ماحول دوست گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی۔
تاہم میئرنے کہا کہ زون میں رجسٹرڈ الیکٹرک گاڑیوں کی تعداد 2019 کے مقابلے میں چھ گنا بڑھ کرتقریباً 1 لاکھ 20 ہزار ہو گئی ہے اوربرقی گاڑیوں کے لیے مکمل رعایت کا نظام سال کے آخرمیں ختم ہورہا تھا۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے صادق خان نے کہا کہ زون کے رہائشی مارچ 2027 سے 90 فیصد رعایت صرف الیکٹرک گاڑیوں پر حاصل کریں گے جبکہ کارشیئرنگ کلپس کو مکمل چھوٹ دی جائے گی۔
اس اقدام کا مقصد ٹریفک کو منظم کرنا اور شہرمیں ٹریفک کے دباؤ کو کم رکھنا ہے تاکہ لندن کی سڑکیں اورمعیشت دونوں فائدہ اٹھا سکیں۔
