کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ایک سینٹرل ڈیٹا بیس تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اور صارفین کی منظوری کے بغیر کسی سے بھی اُن کا ڈیٹا شیئر نہیں کیا جائے گا۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترسیلات زر میں اضافہ کے لیے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترسیلات زر بڑی حد تک بینکنگ چینلز کے ذریعے آ رہی ہیں۔ تاہم ایک خاص حصہ غیر رسمی ذرائع سے بھی آ رہا ہے۔ جسے قانونی چینلز میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم نے کوشش کی کہ اس کو اس طرح بنایا جائے کہ جس سے جو انفارمل چینل سے ترسیلات آ رہی ہیں۔ اس کو فارمل چینل میں لایا جائے اور آپ نے دیکھا کہ اس کے اثرات بھی بڑے اچھے ہیں۔ پچھلے سال 27 فیصد ترسیلات میں اضافہ ہوا۔ اور اسی کے نتیجے میں ترسیلات 38 ملین پر گئیں۔
انہوں نے کہا کہ بینکوں کے پاس موجود صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے تعاون سے کے وائی سی پراجیکٹ پر کام کیا جا رہا ہے۔ اور بعض بینک اپنا ڈیٹا فراہم کر چکے ہیں۔ جس کی بنیاد پر ایک سینٹرل ڈیٹا بیس قائم کیا جائے گا۔ تاہم صارفین کی منظوری کے بغیر کسی سے بھی یہ ڈیٹا شیئر نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف بی آر کا لاکھوں انکم ٹیکس گوشواروں کا بتدریج آڈٹ کا فیصلہ
جمیل احمد نے کہا کہ ہم ترسیلات زر میں اضافے کے لیے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جو موجودہ دور میں انتہائی ضروری ہے۔
