وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کا پہلا باضابطہ اجلاس 14 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس کیلئے 10 وزراء، ایک معاون خصوصی اور 2 مشیروں کو دعوت دی گئی ہے، اجلاس میں امن جرگے کے اعلامیے کی باضابطہ منظوری دیئے جانے کا امکان ہے۔
اجلاس میں 53 نکاتی ایجنڈے کے تحت متعدد اہم فیصلے زیرغورآئیں گے، ان میں ڈسٹرکٹ سیشن ججز کیلئے 25 سرکاری گاڑیوں کی تبدیلی اورسوات ایکسپریس وے کے ٹول پلازوں کے ٹیکس میں 20 فیصد اضافے کی سفارش شامل ہے۔
پاکستان کی دفاعی و سفارتی کامیابی، مودی کی بے بسی واضح، وزیراعظم
اسی طرح صوبائی اسمبلی سے منظور شدہ مختلف قراردادیں بھی پیش کی جائیں گی تاکہ ان پر عملی اقدامات کا آغاز کیا جا سکے۔
اجلاس میں گورنر خیبرپختونخوا کیلئے وی آئی پی گاڑیوں کی خریداری پرعائد پابندی ختم کرنے کی منظوری اور یک کسان، ایک گائے منصوبے کی باضابطہ منظوری بھی متوقع ہے، جس کا مقصد زراعت اور دیہی معیشت کو فروغ دینا ہے۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے اجلاس میں تیراہ اور شمالی وزیرستان کے متاثرین کے لیے خصوصی فنڈز کے اجرا کی منظوری بھی دیے جانے کا امکان ہے، تاکہ متاثرہ علاقوں کی بحالی کے عمل میں تیزی لائی جا سکے۔
اس کے علاوہ پشاور ہائی کورٹ کے ایک بنچ کے لیے بلٹ پروف گاڑی کی فراہمی اور مختلف محکموں کی کارکردگی رپورٹس پیش کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نئے ہدایات کے ذریعے صوبائی نظم و نسق اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے پر بھی زور دیں گے۔
