چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر میں ای کورٹس نظام کے قیام کے لیے لائحہ عمل تشکیل دیا گیا۔
اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس ہارون رشید، بیرسٹر علی ظفر سمیت مختلف اداروں کے حکام نے شرکت کی۔
چیف جسٹس نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن عوامی مفاد پر مبنی ایک اصلاحی عمل ہے، جس کا مقصد عدالتی نظام کو زیادہ شفاف، مؤثر اور عوام دوست بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شفافیت اور کارکردگی کو بہتر بنانا عدالتی اصلاحات کا بنیادی ہدف ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ہدایت کی کہ اس عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے تاکہ ڈیجیٹل نظام کی کامیاب عملدرآمد یقینی بنائی جا سکے۔
انہوں نے فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ اداروں اور ماہرین کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ تیز کرے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگست 2026 تک ملک کی تمام عدالتوں کو سولر انرجی پر منتقل کر دیا جائے گا، جب کہ ای لائبریریز، خواتین سہولت مراکز اور صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے بھی مکمل کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عدالتی نظام میں یہ اصلاحات انصاف کی فراہمی کو تیز، جدید اور عوامی ضروریات کے مطابق بنائیں گی۔
