اسلام آباد: سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ انتقام کے بجائے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
سینیٹر پرویز رشید نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علی ظفر نے تصویر کا صرف اپنا پسندیدہ رخ دکھایا۔ عدلیہ کی آزادی کے لیے سیاسی کارکنوں نے قربانیاں دیں۔ اور سیاسی کارکنوں نے جیل و کوڑے برداشت کر کے جدوجہد کی۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کے مطالبے پر بعض لوگوں کو ناانصافی کا سامنا کرنا پڑا۔ انتقام کے بجائے نظام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ اور چند افراد کے ہاتھوں پورا نظام نہ چھوڑا جائے۔
سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ سینیٹر حامد خان کی پارٹی نے دھرنوں اور پارلیمنٹ پر حملے کیے۔ اب دھرنے کی سیاست کا سبق دوسروں کو نہیں دینا چاہیے۔ تقریروں کا محور گرفتاری اور رہائی رہا، ترمیم پر گفتگو کم ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ہاؤس کے کچھ ارکان نے ترمیم کے دیگر نکات تسلیم کر لیے ہیں۔ اور کمیٹی میں شرکت کر کے تجاویز جمع کرائی جائیں۔ پھر تجاویز کمیٹی رپورٹ میں شامل کر کے شواہد پیش کیے جائیں۔ پارلیمنٹ جب ووٹ کرے تو تجاویز کو مدنظر رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: این اے 96 جڑانوالہ ضمنی انتخابات:پیپلز پارٹی کا ن لیگ کی حمایت کا اعلان
پرویز رشید نے کہا کہ کمیٹی اجلاسوں میں شرکت سے پارلیمانی روح بحال ہو گی۔ اور فیصلہ غلط ہو تو اصلاح کی جائے۔ ادارے ختم نہیں کیے جاتے۔
