کراچی میں متعدد شہریوں کی جانب سے شکایات سمانے آئی ہیں کہ انہیں ایسی گاڑیوں کے ای چالان بھی موصول ہو رہے ہیں جنہیں وہ کب کے فروخت کر چکے ہیں اور جو اب ان کے زیر استعمال نہیں ہیں۔
یہ چالان عموماً اس وقت جاری کیے جاتے ہیں جب ٹریفک کیمروں سے کسی خلاف ورزی کی فوٹیج ریکارڈ ہوتی ہے، مگر گاڑی کے ملکیتی ریکارڈ میں تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے چالان اب بھی پرانے مالک کے نام پر جاری ہو جاتا ہے۔
اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ گاڑی کی ملکیت کی منتقلی میں تاخیر ہے۔ جب کوئی شخص گاڑی فروخت کرتا ہے لیکن خریدار بروقت ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ میں ملکیت کی تبدیلی مکمل نہیں کراتا، تو سسٹم میں گاڑی کا مالک اب بھی پرانا شخص ہی رہتا ہے۔
اس طرح اگر نئی گاڑی کا مالک کوئی ٹریفک خلاف ورزی کرتا ہے تو ای چالان پرانے مالک کے نام پر ہی جاری ہوتا ہے۔
اگر فروخت شدہ گاڑی پر ای چالان موصول ہو تو کیا کریں؟
اگر کسی شخص کو ایسی گاڑی کا ای چالان موصول ہو جائے جو وہ پہلے ہی فروخت کر چکا ہو تو ماہرین درج ذیل اقدامات تجویز کرتے ہیں:
سب سے پہلے فروخت کے تمام دستاویزی ثبوت جمع کریں جن میں خرید و فروخت کا معاہدہ، ادائیگی کی رسید، ملکیت کی منتقلی کی درخواست اور ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کی رسید شامل ہو۔ یہ ثبوت اس بات کی تصدیق کریں گے کہ گاڑی خلاف ورزی کی تاریخ سے پہلے فروخت ہو چکی تھی۔
اس کے بعد متعلقہ ٹریفک پولیس آفس یا کراچی ٹریفک پولیس (KTP) کی کسی شاخ پر جائیں اور اپنی شناختی کارڈ، ای چالان نوٹس اور فروخت کے کاغذات کے ساتھ معاملہ رپورٹ کریں۔
متعلقہ اہلکار سے درخواست کریں کہ وہ خلاف ورزی کی فوٹیج اور رجسٹریشن ریکارڈ چیک کریں۔ اگر شواہد سے ثابت ہو جائے کہ گاڑی فروخت ہو چکی تھی، تو چالان منسوخ یا نئے مالک کے نام منتقل کر دیا جائے گا۔
مزید برآں، اگر ایکسائز ریکارڈ میں اب بھی پرانے مالک کا نام درج ہے تو متعلقہ دفتر جا کر ریکارڈ اپڈیٹ کرانا ضروری ہے تاکہ آئندہ تمام ای چالان نئی ملکیت کے نام پر جاری ہوں۔
ٹریفک حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ گاڑی فروخت کرنے کے فوراً بعد ملکیت کی منتقلی کی کارروائی مکمل کروائیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی مشکلات سے بچا جا سکے۔
