پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دہشتگردی کی روک تھام کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور آج استنبول میں ہو گا۔
ذرائع کے مطابق استنبول مذاکرات کے دوسرے دور میں فریقین میں جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیئے جانے کا امکان ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ وفد میں طالبان حکومت کے انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق، نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، دوحہ میں طالبان حکومت کے سفیر سہیل شاہین کے علاوہ انس حقانی، عبدالقہار بلخی اور دیگر شامل ہیں۔
پاکستان اور افغان طالبان کا سیز فائر جاری رکھنے پر اتفاق، استنبول مذاکرات کا اعلامیہ جاری
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے دہشتگردی نہ ہو، مذاکرات میں پیشرفت کا امکان ہوتا ہے تبھی بات کی جاتی ہے، اگر پیشرفت کا امکان نہ ہو تو پھر وقت کا ضیاع ہی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کا ایک ہی مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے بند کیے جائیں، امید ہے خطے میں قیام امن کے لیے افغان طالبان دانش مندی سے کام لیں گے۔
پاک افغان مذاکرات، پاکستانی وفد نے افغان طالبان وفد کو حتمی مؤقف پیش کر دیا
اس سے قبل پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوا، طویل اور اعصاب شکن مذاکرات کا یہ دور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے ایک نکاتی پاکستانی مطالبے کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔
