تجربہ کار زمبابوین بلےباز سین ولیمز(Sean Williams) کی بین الاقوامی کرکٹ میں واپسی کے امکانات تقریباً ختم ہو گئے ہیں، کیونکہ زمبابوے کرکٹ نے اعلان کیا ہے کہ وہ قومی ٹیم کے لیے مزید زیرِ غور نہیں ہوں گے اور ان کا سینٹرل کنٹریکٹ 2025 کے بعد تجدید نہیں کیا جائے گا۔
Williams in rehab after withdrawing from national duty
Details 🔽https://t.co/PdLCiwBeiX pic.twitter.com/tifysdRPpA
— Zimbabwe Cricket (@ZimCricketv) November 4, 2025
زمبابوے کرکٹ کے مطابق، یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب 39 سالہ سین ولیمز نے خود بورڈ کو آگاہ کیا کہ وہ منشیات کے استعمال کے مسئلے میں مبتلا ہیں اور اس حوالے سے رضاکارانہ طور پر بحالی مرکز (rehab) میں داخل ہو گئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ، ” سین ولیمز کے ماضی میں ڈسپلن سے متعلقہ معاملات اور بار بار ٹیم سے غیر دستیابی نے ہماری تیاریوں اور کارکردگی پر منفی اثر ڈالا ہے۔
بورڈ نے وضاحت دی، “اگرچہ ہم ان کی بحالی کے فیصلے کو سراہتے ہیں، تاہم ٹیم سے اچانک علیحدگی اور ممکنہ ڈوپنگ ٹیسٹ سے بچنے کے خدشات نے پیشہ ورانہ معیارات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔”
زمبابوے کرکٹ نے بیان کے اختتام پر کہا،
“ہم سین ولیمز کی زمبابوے کرکٹ کے لیے دو دہائیوں پر محیط شاندار خدمات کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ ٹیم کے کئی یادگار لمحات کا حصہ رہے اور ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ہم ان کی صحت یابی اور مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔”
کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی:فاسٹ بالر حارث رؤف 2 ون ڈے میچز کیلئے معطل
کرکٹ کیرئیر پر ایک نظر
سین ولیمز نے 2005 میں انٹرنیشنل ڈیبیو کیا اور دو دہائیوں پر محیط کیریئر میں 273 بین الاقوامی میچوں میں 8000 سے زائد رنز بنائے۔ ایک روزہ میچوں میں وہ سب سے زیادہ نمایاں رہے، جہاں انہوں نے 5217 رنز 37.53 کی اوسط سے بنائے، جن میں آٹھ سنچریاں اور 37 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
اس سال کے آغاز میں وہ جیمز اینڈرسن کو پیچھے چھوڑ کرسب سے طویل عرصہ کھیلنے والے فعال بین الاقوامی کرکٹربن گئے تھے۔ تاہم، ان کا کیریئر ہمیشہ تنازعات سے گھرا رہا۔ متعدد مواقع پر وہ بورڈ سے اختلافات کے باعث ٹیم سے علیحدہ بھی ہوئے۔
سابق تریپورہ کرکٹر راجیش بانک سڑک حادثے میں ہلاک
سین ولیمز نے حال ہی میں ٹی20 ورلڈ کپ افریقہ کوالیفائرز کے آغاز سے قبل “ذاتی وجوہات” کا حوالہ دیتے ہوئے ٹیم سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ تاہم، زمبابوے کرکٹ کی داخلی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ان کی غیر حاضری کے پیچھے نشے کی عادت کارفرما تھی۔
