نیویارک سٹی کے نو منتخب مسلمان میئر زہران ممدانی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے جس میں انہوں نے انتخابی مہم کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔
مودی کی فاشست پالیسیوں کے حوالے سے ایک سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ممدانی نے کہا کہ وہ مودی کے ساتھ کسی تقریب یا پلیٹ فارم پر شریک نہیں ہوں گے۔
زہران ممدانی نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کو 2002 کے گجرات فسادات کے دوران ریاست کے اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ کی حیثیت سے مسلمانوں کے قتلِ عام کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔
View this post on Instagram
انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ “میں ایسے شخص کے ساتھ اسٹیج پر نہیں کھڑا ہو سکتا جس نے گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام میں کردار ادا کیا۔ یہ ایک اجتماعی قتلِ عام (mass slaughter) تھا، اور تاریخ اسے فراموش نہیں کرے گی۔”
ممدانی نے مودی کا موازنہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں مودی کو اسی نظر سے دیکھنا چاہیے جس نظر سے ہم نیتن یاہو کو دیکھتے ہیں، وہ جنگی مجرم (war criminal) ہیں۔”
زہران ممدانی کے یہ بیانات اُن کی انڈین مسلم شناخت کے پس منظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے انتخاب پر انڈینز خوش ہو رہے تھے کہ آخر کو ممدانی کا ننھیال بھارت میں ہے لیکن نو منتخب میئر کے مودی کے خلاف سخت بیانات نے واضح کردیا کہ وہ دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ڈھانے والے حکمرانوں کا ساتھ نہیں دیں گے۔
