ڈیموکریٹ پارٹی کی رہنما غزالہ ہاشمی نے ورجینیا کے لیفٹیننٹ گورنر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے تاریخ رقم کر دی۔
عالمی میڈیا کے مطابق وہ ریاستی سطح پر منتخب ہونے والی امریکہ کی پہلی مسلم خاتون بن گئی ہیں۔
امریکہ میں ریاستی سطح پر جاری انتخابات میں آج 2 بار تاریخ رقم ہوئی ہے۔ دنیا کا داراحکومت کہلائے جانے والے شہر، نیویارک، کی حکمرانی ایک مسلمان میئر کے حصے میں آئی ہے۔ دوسری تاریخی واقعہ غزالہ ہاشمی کی فتح ہے۔
انہوں نے ریپبلکن امیدوار جان ریڈ کو شکست دی، جو ورجینیا کی تاریخ میں ریاستی سطح پر الیکشن لڑنے والے پہلے ہم جنس پرست امیدوار تھے۔
لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے غزالہ ہاشمی ورجینیا سینیٹ کی صدارت کریں گی اور کبھی بھی مقابلہ برابر ہونیکی صورت میں فیصلہ کن ووٹ ڈالنے کا اختیار رکھیں گی۔
ماہرین کے مطابق ان کا یہ کردار نہایت اہم ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ان کی سینیٹ سیٹ خالی ہونے کے بعد ڈیموکریٹس کو ایوان میں صرف 20-19 کی معمولی برتری حاصل ہوگی۔
2019 میں غزالہ ہاشمی نے پہلی بار ریاستی سینیٹ کا انتخاب جیت کر نہ صرف ایک ریپبلکن امیدوار کو شکست دی بلکہ وہ ایوان میں منتخب ہونے والی پہلی مسلم اور بھارتی نژاد امریکی بھی بنیں۔
انہوں نے اپنی پہلی انتخابی مہم میں ٹرمپ انتظامیہ کی مسلمانوں پر پابندی کی پالیسی (Muslim Ban) کو اپنی سیاست میں آنے کی بنیادی وجہ قرار دیا تھا۔
اپنی حالیہ مہم میں انہوں نے شہری حقوق، تعلیمی اصلاحات، خواتین کے اختیارات، اور اقلیتوں کے تحفظ پر زور دیا۔ انتخابی مہم کے دوران اپنے حریف کی جانب سے مسلسل تنقید اور مباحثے سے گریز کے الزامات کے باوجود غزالہ ہاشمی نے اپنی توجہ عوامی رابطے اور عملی منصوبوں پر مرکوز رکھی۔
View this post on Instagram
غزالہ ہاشمی نے جون میں پارٹی کی پرائمری میں پانچ امیدواروں کو شکست دے کر 28 فیصد ووٹ کے ساتھ نامزدگی حاصل کی تھی۔
بعدازاں انہوں نے اپنی ٹیم کے دیگر ڈیموکریٹ امیدواروں، گورنر کے امیدوار ایبیگیل اسپینبرگر اور اٹارنی جنرل کے امیدوار جے جونز، کے ساتھ مل کر انتخابی مہم چلائی۔
