اسلام آباد، وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایوان میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی چیئرمین سینیٹ کی آئینی و ضابطہ جاتی ذمہ داری ہے، حکومت یا کسی جماعت کی جانب سے اس عمل میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جا رہی۔
وزیر خارجہ سینیٹ میں اظہارِخیال کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین سینیٹ رولزکے مطابق اپوزیشن لیڈرکے انتخاب کا عمل مکمل کریں اوراراکینِ اپوزیشن کی اکثریت سے اطمینان حاصل کریں۔
اسحاق ڈارنے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ ایوان میں اپوزیشن لیڈر کا ہونا پارلیمانی توازن کے لیے ضروری ہے اور حکومت اس عمل کی مکمل حمایت کرتی ہے۔
آئینی ترمیم، صوبوں اور مرکز کے پاس وسائل میں توازن کی ضرورت ہے،راناثناءاللہ
انہوں نے سینیٹرعلی ظفر سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے پرجلد فیصلہ کریں تاکہ ایوان کا کام مؤثر انداز میں آگے بڑھ سکے۔
27ویں آئینی ترمیم سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ آئینی ترمیم ہمیشہ حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے، اور یہ ترمیم حکومت ہی پارلیمنٹ میں پیش کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ آئینی تقاضوں کے مطابق حکومت اتحادی جماعتوں ایم کیو ایم، اے این پی، آئی پی اوردیگرکواعتماد میں لے رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی سطح پر ترمیم کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اورسینیٹ میں قانونی ماہرین کی آراء کی روشنی میں مسودے میں بہتری لائی جائے گی۔
بلاول بھٹو کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت آئینی عمل پرقائم ہے اورتمام ترامیم شفاف اور اصولی طریقے سے پیش کی جائیں گی۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اپوزیشن کو اظہارِرائے کا مکمل حق حاصل ہوگا جبکہ 27ویں ترمیم کے حوالے سے جلد پیش رفت متوقع ہے۔
