کراچی میں منعقد ہونے والی ہالووین پارٹیوں کے حوالے سے پاکستانی اداکارہ، اینکر اور سماجی کارکن مشی خان کے انکشافات نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سماجی اور اخلاقی معاملات پر کھل کر اظہارِ خیال کرنے والی مشی خان نے حال ہی میں شہر میں منعقد ایک مخصوص ہالووین پارٹی کے بارے میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس تقریب میں (ایل جی بی ٹی کیو) ہم جنس پرستی میں ملوث افراد اپنے ساتھیوں کے ساتھ شریک ہوئے۔
مشی خان نے ایک ویڈیو بیان میں الزام عائد کیا کہ یہ تقریب کھلے عام فحاشی کے زمرے میں آتی ہے لیکن حکام کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ یہ پارٹی کھلی فحاشی کے زمرے میں آتی ہے، تاہم متعلقہ ادارے خاموش ہیں۔ اداکارہ نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ معاشرہ اس بات پر غور کرے کہ ایسی تقاریب کو بغیر کسی روک ٹوک کے کس طرح منعقد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لوگ چاہیں کچھ بھی کہیں، لیکن وہ سچ بولنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گی اور یہ صورتحال ہمارے معاشرے کے لیے ایک وارننگ ہے۔
مشی خان کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ کچھ صارفین نے حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی چیزوں کو کسی صورت فروغ نہیں دینا چاہیے۔
40 سال کا ہونا کوئی گناہ نہیں، مشی خان
دوسری جانب کئی صارفین نے مشی خان کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے ان کے خدشات کو درست قرار دیا۔ اس بحث نے ہالووین کلچر اور مغربی روایات کے پاکستان میں بڑھتے اثر و رسوخ کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے، خاص طور پر اس تناظر میں کہ یہ رجحانات مقامی اقدار سے متصادم ہیں۔
مشی خان کے واضح مؤقف نے ایک بار پھر پاکستانی معاشرے میں ثقافتی اقدار، عوامی اخلاقیات اور غیر ملکی روایات کے بڑھتے اثرات کو زیرِ بحث لا کھڑا کیا ہے۔
