امریکا کے سب سے بڑے شہر نیویارک میں آج نئے میئر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہو رہی ہیں۔
تقریباً 50 لاکھ رجسٹرڈ ووٹرز کے لیے یہ دن فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، جبکہ شہر بھر میں پولنگ اسٹیشنز صبح 6 بجے سے رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
زہران ممدانی کی پوزیشن
نیویارک سٹی بورڈ آف الیکشنز کے مطابق گزشتہ 9 روز کے دوران 7 لاکھ 34 ہزار سے زائد ووٹرز قبل از وقت اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔ یہ تعداد 2021 کے میئرل انتخاب کے مقابلے میں 4 گنا زیادہ ہے۔
ماہرین کے مطابق عوام کی اس بے مثال شرکت نے انتخابی جوش و خروش کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔
View this post on Instagram
تازہ ترین ریئل کلیئر پالیٹکس سروے کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی 46.1 فیصد ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہیں، جبکہ آزاد امیدوار اینڈریو کومو 31.8 فیصد اور ری پبلکن امیدوار کرٹس سلیوا 16.3 فیصد پر ہیں۔
یوں ممدانی کو کومو پر 14٫3 پوائنٹس اور سلیوا پر تقریباً 30 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔
ٹرمپ اور ایلون مسک کس کے حامی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک غیر متوقع طور پر اینڈریو کومو کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حمایت قدامت پسند ووٹرز کو متحرک کر سکتی ہے، تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہے کہ اس سے نتائج میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی یا نہیں۔
ممدانی کی مہم، عوامی وعدوں سے بھرپور
مسلم امریکی سیاست دان زہران ممدانی، جو ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا کے رکن ہیں، نے نوجوانوں اور متوسط طبقے میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی ہے۔
View this post on Instagram
ان کے منشور میں مفت چائلڈ کیئر، بسوں کا کرایہ ختم کرنے اور کرایوں میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ “نیویارک صرف امیروں کا شہر نہیں، یہ محنت کشوں کا بھی شہر ہے۔”
اب ایک جانب ممدانی کا ترقی پسند اور عوام دوست ایجنڈا ہے، دوسری طرف کومو کو ٹرمپ اور مسک جیسے قد آور ناموں کی پشت پناہی حاصل ہو گئی ہے۔
اگر ممدانی کامیاب ہوتے ہیں تو وہ امریکا کے پہلے مسلم اور افریقی نژاد میئر ہوں گے جو نیویارک کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرے گا۔
