عالمی مالیاتی ادارے مورگن اسٹینلی(Morgan Stanley) نے پیش گوئی کی ہے کہ سونے کی قیمت آئندہ سالوں میں نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 2026 کے وسط تک سونا 4,500 ڈالر فی اونس تک پہنچنے کا امکان ہے۔جو اس وقت 4000 ڈالر فی اونس کے قریب ہے۔
بینک نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز (ETFs) اور مرکزی بینکوں کی جانب سے مضبوط خریداری سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ساتھ ہی، جاری عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونا خریدنے پر مجبور کیا ہے۔
نور وے اسپروس نامی درختوں کے باریک پتوں میں سونا دریافت، سائنسدانوں کی حیران کن تحقیق
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سونے کی حالیہ تیزی نے اسے ’’اوور بوٹ‘‘زون میں پہنچا دیا تھا، تاہم بعد کی معمولی کمی نے مارکیٹ کی پوزیشننگ کو صحت مند بنایا ہے۔ مورگن اسٹینلی کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کمی کے باعث گولڈ بیکڈ ای ٹی ایف میں مزید سرمایہ کاری متوقع ہے جبکہ مرکزی بینکوں کی خریداری بھی اگرچہ قدرے سست رفتاری سے، لیکن برقرار رہے گی۔
دوسری جانب، بینک نے خبردار کیا ہے کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سرمایہ کاروں کو دیگر اثاثہ جات کی طرف مائل کر سکتا ہے، اگر مرکزی بینکوں نے اپنے ذخائر میں کمی کی تو یہ بھی قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال سونے کی قیمت میں 54 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اکتوبر 2025 میں سونا 4,381.21 ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح پر پہنچا، تاہم بعد ازاں 8 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
مورگن اسٹینلی کے مطابق، یہ تیزی جغرافیائی تناؤ، شرح سود میں کمی اور ای ٹی ایف میں بھاری سرمایہ کاری کی وجہ سے ممکن ہوئی۔
سونا مزید سستا ، فی تولہ قیمت کتنی ہو گئی؟
دیگر بینکوں نے بھی سونے کے لیے پرامید پیش گوئیاں کی ہیں۔ بینک آف امریکا نے 2026 کے لیے ہدف 5,000 ڈالر فی اونس مقرر کیا ہے، جے پی مورگن نے اوسط قیمت 5,055 ڈالر، سوسائٹی جنرالی اور گولڈمین ساکس نے بھی بالترتیب 5,000 اور 4,900 ڈالر کے اہداف طے کیے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اگر مرکزی بینکوں کی خریداری کا سلسلہ برقرار رہا اور شرح سود میں مزید کمی ہوئی تو سونے کی قیمت اگلے دو سالوں میں مزید بڑھنے کا قوی امکان ہے۔
