امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر نائیجیریا نے ملک میں عیسائیوں کے قتل عام کے خلاف کارروائی نہ کی تو امریکہ “تیز اور سخت فوجی ایکشن” کے لیے تیار ہے۔
ٹرمپ نے ٹرُوتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے وزارتِ دفاع کو ہدایت دی ہے کہ وہ نائیجیریا کے خلاف ممکنہ کارروائی کی تیاری کرے۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ نائیجیریا کے لیے تمام امداد اور معاونت فی الفور معطل کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے کارروائی کی تو وہ ‘تیز، خوفناک اور فیصلہ کن’ ہوگی، جیسے دہشت گرد ہمارے عزیز عیسائیوں پر حملے کرتے ہیں۔
انہوں نے نائیجیریا کو “بدنام ملک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی حکومت کو فوری قدم اٹھانا چاہیے۔
امریکی محکمۂ دفاع نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی جانب رجوع کرنے کا کہا۔
تاہم امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے ایک سوشل میڈیا پیغام میں لکھا کہ “وزارتِ جنگ کارروائی کے لیے تیار ہے۔ یا تو نائیجیریا کی حکومت اپنے عیسائی شہریوں کا تحفظ کرے، یا ہم ان دہشت گردوں کو ختم کر دیں گے جو یہ مظالم کر رہے ہیں۔”
نائیجیریا کی حکومت نے فوری طور پر ٹرمپ کے بیانات پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
تاہم اس کی وزارتِ خارجہ نے ایک الگ بیان میں کہا کہ وہ تشدد اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ جاری رکھے گی اور امید ظاہر کی کہ امریکہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات برقرار رکھے گا۔
— Ministry of Foreign Affairs, Nigeria 🇳🇬 (@NigeriaMFA) November 1, 2025
اس سے قبل امریکی حکومت نے نائیجیریا کو دوبارہ ان ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا جنہیں “مذہبی آزادی کے حوالے سے تشویشناک” سمجھا جاتا ہے۔ اس فہرست میں چین، میانمار، شمالی کوریا، روس اور پاکستان بھی شامل ہیں۔
نائیجیریا کے صدر بولا احمد تینوبو نے ہفتے کے روز ایک بیان میں مذہبی عدم برداشت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “نائیجیریا کو مذہبی طور پر عدم برداشت کے حامل ملک کے طور پر پیش کرنا حقیقت کے منافی ہے۔ حکومت ہر مذہب کے ماننے والوں کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔”
Nigeria stands firmly as a democracy governed by constitutional guarantees of religious liberty.
Since 2023, our administration has maintained an open and active engagement with Christian and Muslim leaders alike and continues to address security challenges which affect… pic.twitter.com/mRb9IqKMFm
— Bola Ahmed Tinubu (@officialABAT) November 1, 2025
ماہرین کے مطابق، اگر امریکہ واقعی فوجی کارروائی کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے خطے میں محدود فوجی موجودگی کی وجہ سے لوجسٹک مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ افریقہ میں امریکی فوجی اڈہ صرف جبوتی میں موجود ہے، جہاں تقریباً 5,000 فوجی تعینات ہیں۔
