معروف امریکی طبی جریدے جاما کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق انتہائی زیادہ یا کم درجہ حرارت دل کے مریضوں میں اموات کے امکانات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تحقیق سویڈن میں کی گئی، جس میں 2006 سے 2021 تک کے دوران تقریباً ڈھائی لاکھ دل کے مریضوں کا تفصیلی ڈیٹا شامل کیا گیا۔
ہیرے بنانے کا آسان ترین سائنسی طریقہ دریافت
تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ جب درجہ حرارت انتہائی کم سطح پر (یعنی نچلے دو اعشاریہ پانچ فیصدیل) پہنچا تو اموات میں تقریباً تیرہ فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ انتہائی زیادہ درجہ حرارت (بالائی دو اعشاریہ پانچ فیصدیل) کے دوران اموات میں پانچ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ مزید برآں، دل کی بیماری سے وابستہ اموات میں آٹھ سے سولہ فیصد تک اضافہ نوٹ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق مرد حضرات، ذیابیطس کے مریض، اور وہ افراد جو پیشاب آور ادویات استعمال کرتے ہیں، خاص طور پر سرد موسم کے دوران زیادہ خطرے میں پائے گئے، دوسری جانب زیادہ درجہ حرارت کا اثر دل کی بے قاعدہ دھڑکن کے مریضوں میں نمایاں طور پر دیکھا گیا۔
بھگوئے ہوئے انجیر کھانے کے حیران کن فوائد
تحقیق کے مطابق جیسے جیسے ماحولیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں گرمی اور سردی کی شدت بڑھ رہی ہے، دل کی کمزوری یا دیگر امراضِ قلب میں مبتلا افراد کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ایسے مریض شدید موسم کے دنوں میں گھر کے اندر معتدل درجہ حرارت برقرار رکھیں، پانی کا زیادہ استعمال کریں اور اپنی دوائیں باقاعدگی سے لیں۔
