یورپ بھر میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت گیر پالیسیوں کے نفاذ کے بعد پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد کا مستقبل بھی شدید غیر یقینی کا شکار ہو گیا ہے۔
تازہ ترین صورتحال کے مطابق یورپی ملک فن لینڈ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف حکومتی کارروائیوں میں شدت آ گئی ہے جس کے بعد پاکستان سمیت دیگر ممالک کے یہاں غیر قانونی طور پر مقیم شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے ستمبر 2025 کے دوران 2 ہزار 70 غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔
فن لینڈ کی نیشنل پولیس بورڈ کے مطابق اب غیر ملکیوں کے قیام کے حق کی سخت جانچ پڑتال کی جا رہی ہے، اور جن کے پاس قانونی حیثیت نہیں، انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
پاکستانی شہری بھی ڈی پورٹ کیے جا سکتے ہیں
واضح رہے کہ غیر مصدقہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 10 ہزار پاکستانی فن لینڈ میں مقیم ہیں جن کی بڑی تعداد نے گزشتہ چند سالوں میں وہاں سکونت اختیار کی ہے۔
فن لینڈ پاکستانی شہریوں کو بھی ملک بدر کر سکتا ہے، اور یہ عمل EU-Pakistan Readmission Agreement کے تحت چلتا ہے۔
اس معاہدے کے تحت، دونوں فریق غیر قانونی طور پر کسی اور ملک میں مقیم شہریوں کو واپس اپنے ملک میں داخل کرنے کے پابند ہیں۔
دائیں بازو کی جماعتیں مہاجرین کے خلاف ہیں
ہیلسنکی کے ایک فلاحی مرکز “ٹوِوون تالو” (امید کا گھر) میں درجنوں غیرقانونی تارکین وطن قانونی اور سماجی مدد حاصل کرتے ہیں۔ مرکز کی انچارج این ہیماڈ کا کہنا ہے کہ دائیں بازو کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد پناہ گزینوں میں بے دخلی کا خوف بڑھ گیا ہے۔
وزیر داخلہ ماری رانتانن کے مطابق فن لینڈ نے 2023 سے پناہ، رہائشی اجازت نامے، خاندانی ویزے اور شہریت کے قوانین سخت کیے ہیں، تاکہ امیگریشن کو “مزید منظم” اور ملکی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق یہ پالیسی “پیرادائم شفٹ” یعنی بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جس سے اب فن لینڈ میں غیر ملکیوں کے لیے محفوظ زندگی قائم کرنا پہلے کی طرح ممکن نہیں رہا۔
