تنزانیہ کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ صدر سامیہ سُلحُو حسن نے صدارتی انتخابات میں تقریباً 98 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔
سامیہ حسن، جو 2021 میں سابق صدر کے انتقال کے بعد اقتدار میں آئی تھیں، اب مشرقی افریقی ملک کی 6 کروڑ 80 لاکھ آبادی پر مزید پانچ سال کے لیے حکومت کریں گی۔
تنزانیہ کے صدارتی انتخابات کے دوران ملک بھر پُرتشدد مظاہرے ہو تے رہے جس دوران متعدد ہلاکتیں بھی ہوئیں۔
Protesters in #Tanzania have torched government buildings as the youth-led rioters took to streets angered over the disputed Oct 29 elections, which saw opposition leaders jailed and violent clashes nationwide.
Limited footage was available as internet services were shutdown.… pic.twitter.com/7LPgehc76t
— Shafek Koreshe (@shafeKoreshe) October 30, 2025
مین اپوزیشن پارٹی کے مطابق احتجاجی مظاہروں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے، تاہم اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے تصدیق کی کہ کم از کم تین شہروں میں 10 افراد مارے گئے۔
بدھ کو ہونے والی ووٹنگ کے دوران دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے پھوٹے۔ عینی شاہدین کے مطابق مشتعل مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی جبکہ پولیس نے آنسو گیس اور فائرنگ سے حالات قابو میں لانے کی کوشش کی۔
Protesters storm Dar-Salam International Airport in Tanzania to prevent members of the political elite from fleeing the country to Zanzibar following turbulent elections. pic.twitter.com/v5HGSSU5RF
— Al Arabiya English (@AlArabiya_Eng) October 30, 2025
اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے صدر سامیہ حسن کے 2 بڑے مخالف امیدواروں کو انتخابی دوڑ سے باہر کر کے انتخابی عمل کو غیر منصفانہ بنا دیا۔
حکومت نے اپوزیشن کے اعداد و شمار کو “بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا” قرار دیتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات مسترد کر دیے۔
