برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو کے شہری پولیس کے ہاتھوں ایک خونی آپریشن میں کم سے کم 132 افراد کی ہلاکتوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔
مظاہرہ “ویلا کروزئیرو” نامی کچی آبادیی (فویلا) کے رہائشیوں نے کیا جس میں نعرے لگائے: “کاسترو مستعفی ہو، قتلِ عام بند کرو!”
View this post on Instagram
مظاہرین میں بچوں سے لے کر تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شہری، حتٰی کہ موٹر سائیکل ٹیکسی ڈرائیورز بھی شامل تھے۔
ایک بچے نے خون کے رنگ میں رنگی قمیض پہنی ہوئی تھی جس پر لکھا تھا: “بچے کھیلنا چاہتے ہیں، فویلا کو امن چاہیے۔”
View this post on Instagram
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی منشیات فروش گروہ “کمانڈو ورمیلیو” کے خلاف تھی، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ نے آپریشن کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے الزام لگایا کہ پولیس نے جائے وقوعہ اور وہاں موجود شواہد کے تحفظ کے تقاضے پورے نہیں کیے۔
View this post on Instagram
ریو کی کونسلر مونیکا بینیسیو، جن کے شوہر اور سماجی رہنما ماریئل فرانکو 2018 میں قتل ہوئے تھے، نے کہا کہ “یہ محض دکھ نہیں بلکہ بیداری کا لمحہ ہے، تاکہ ایسا قتل عام دوبارہ نہ ہو۔”
دوسری جانب، گورنر کلاڈیو کاسترو نے آپریشن کو “نارکو دہشت گردوں کے خلاف کامیابی” قرار دیا، جب کہ رائے عامہ کے حالیہ سروے میں اکثریت نے پولیس کارروائی کی حمایت کی۔
Sigo acompanhando de perto esse dia histórico no combate à criminalidade no Rio de Janeiro.
Acabo de tomar uma decisão importante para o nosso estado, que vai nos ajudar a definir os próximos passos nessa luta. pic.twitter.com/seFOP9JmIu
— Cláudio Castro (@claudiocastroRJ) October 28, 2025
برازیلی صدر لولا دا سلوا نے پارلیمنٹ میں نیا بل پیش کیا ہے جس کے تحت گینگ کے ارکان کو کم از کم 30 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
