ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اور پاکستانی حکومت نے اگلے ماہ ملک گیر پیمانے پر خسرہ اور روبیلا کے خلاف ویکسینیشن مہم چلانے کا اعلان کیا ہے، یہ مہم 17 نومبر سے 29 نومبر تک جاری رہے گی۔
رپورٹ کے مطابق مہم کا ہدف 6 ماہ سے 59 ماہ عمر کے تقریباً 35.4 ملین بچوں کو ویکسین فراہم کرنا ہے، تاکہ خسرہ اور روبیلا کے خطرناک اثرات سے محفوظ بنایا جا سکے، اس مقصد کے لیے 140,000 سے زائد صحتِ عامہ کے کارکنان کو تربیت دی جائے گی۔
سندھ بھر میں24گھنٹےمیں ڈینگی سے2اموات، ایک ہزار558 نئے کیسز
ڈبلیو ایچ او کی پاکستان میں نمائندہ ڈاکٹر لوو داپینگ نے کہا کہ ویکسین جانیں بچاتی ہے اور بچوں کو مہلک امراض سے محفوظ رکھتی ہے۔ وفاقی ادارہ برائے حفاظتی ٹیکہ کاری کی ڈائریکٹر جنرل صوفیہ یونس نے اس مہم کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہر بچے تک ویکسین پہنچانے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔
رپورٹس کے مطابق 2025 میں پاکستان میں خسرہ کے کیسز کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی، جن میں 57 فیصد بچے ویکسین نہ ہونے کے باعث متاثر ہوئے۔
