پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں محصولات کا ہدف حاصل نہ ہوا یا اخراجات طے شدہ حد سے بڑھ گئے تو جنوری میں 200 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔
ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ اقدامات میں لینڈ لائن اور موبائل کالز پر انکم ٹیکس کی شرح میں اضافہ، جبکہ بینکوں سے نقد رقم نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔
یہ اقدامات صرف اس صورت میں لاگو ہوں گے جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) دسمبر کے آخر تک اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہے یا سرکاری اخراجات طے شدہ حد سے تجاوز کر جائیں۔
ذرائع کے مطابق دیگر متبادل تجاویز میں سولر پینلز پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے اور کنفیکشنری و بسکٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ حکومت سیلز ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر بھی غور کر رہی ہے، جس سے سالانہ 225 ارب روپے حاصل ہوسکتے ہیں۔ تاہم فی الحال توجہ مخصوص شعبوں میں ٹارگٹڈ اقدامات پر دی جا رہی ہے۔
ایف بی آر کو مالی سال کے ابتدائی تین ماہ میں 198 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ 29 اکتوبر تک ٹیکس وصولی 3.65 ٹریلین روپے رہی، جب کہ چار ماہ کا ہدف پورا کرنے کے لیے صرف 48 گھنٹوں میں مزید 460 ارب روپے درکار ہیں۔ ٹیکس تجاویز کی تفصیل: غیر فائلرز کے لیے بینک سے رقم نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس 0.8 فیصد سے بڑھا کر 1.5 فیصد کرنے کی تجویز، جس سے سالانہ 30 ارب روپے حاصل ہو سکتے ہیں۔
لینڈ لائن فون پر ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کرنے کی تجویز، متوقع آمدن 20 ارب روپے۔ موبائل کالز پر ٹیکس 15 فیصد سے بڑھا کر 17.5 فیصد کرنے کی تجویز، متوقع آمدن 24 ارب روپے۔ کنفیکشنری اور بسکٹ پر 16 فیصد ایف ای ڈی لگانے کی تجویز، جس سے 70 ارب روپے سالانہ آمدن متوقع ہے۔ ان اقدامات کے بعد پراسیسڈ فوڈ پر مجموعی ٹیکس کی شرح 38 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔
پاکستان میں اے ٹی ایم سے کیش نکلوانے پر نیا ٹیکس عائد
ذرائع کے مطابق سندھ اور پنجاب نے زرعی آمدن پر بڑھائے گئے ٹیکس کی وصولی ایک سال کے لیے مؤخر کر دی ہے۔ دوسری جانب ایف بی آر کا ٹیکس نیٹ بڑھانے کا منصوبہ تاحال سست روی کا شکار ہے، جس کے باعث موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
آئی ایم ایف نے اب تک پاکستان کا سالانہ بنیادی مالیاتی سرپلس ہدف (جی ڈی پی کا 1.6 فیصد یا 2.1 ٹریلین روپے) کم کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم ادارے نے وعدہ کیا ہے کہ سیلابی نقصانات کے حتمی تخمینے کے بعد اس پر نظرثانی کی جا سکتی ہے۔
ورلڈ بینک نے بھی پاکستان کی معاشی ترقی کی پیش گوئی کو بہتر کرتے ہوئے 3 فیصد کر دیا ہے، کیونکہ سیلابی نقصانات توقع سے کم رہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت کو امید ہے کہ اضافی 200 ارب روپے کے ٹیکس اقدامات سے حاصل ہونے والی رقم کا نصف حصہ جنوری تا جون 2026 کے دوران وصول کیا جا سکے گا، جو آئی ایم ایف سے حتمی منظوری کے بعد نافذ العمل ہوگا۔
